آل پا کستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی شوگرملوں کے خلاف کا رروائیاں نہ رکنے پر کرشنگ نہ شروع کرنے کی دھمکی

لاہور(نیوزٹویو) آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت کوخبردارکیا ہےکہ شوگر ملوں کے خلاف کا رروائیاں نہ رکیں تویکم نومبر سے کرشنگ سیزن شروع نہیں کریں گے  آل پاکستان شوگرملزایسوسی ایشن کے چیئرمین چودھری ذکا اشرف نے شوگر ملز مالکان کے خلاف کی جانے والی حکومتی کارروائی پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو یکم نومبر سے کرشنگ شروع نہیں کریں گے۔ ہم حکومت کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں۔ جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ شوگر ملز مالکان کو کل گرفتار کیا گیا تھا۔حکومت کو اس طرح کے اقدامات کرنے سے پہلے بات چیت کرنی چاہیے تھی  اس وقت شوگر کی صنعت لاتعداد مشکلات سے دوچار ہےانہوں نے کہا کہ شوگر ملز مالکان کو بلا جواز پکڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 15/15 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے، جو ملکی صنعت میں سرمایہ کاری کرتے ہیں ان کے ساتھ ایسا نہ کریں، شوگر انڈسٹری 1200 ارب روپے کی ہے۔انصاف سب کے لیے برابر ہوتا ہے اور آپ کو سب کے لیے یکساں طور پر سوچنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال سال اسلام آباد ہائی کورٹ کے احترام میں 72 روپے فی کلوچینی فروخت کی گئی تھی انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ ہمارے کاروبار میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے ہم نے گنے کے کاشتکاروں کو نہایت اچھی قیمت ادا کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گنا مہنگا ہو گا تو چینی کی قیمت میں بھی اضافہ ہو گا۔چودھری ذکا اشرف نے کہا کہ شوگرملز کو شدید مالی بحران اور مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سستی چینی تمام ٹیکس کے ساتھ 90 سے 100 روپے میں فروخت ہوتی ہے جب کہ عالمی منڈی میں چینی کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔چودھری ذکا اشرف نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں سے شوگر ملوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے غیر معیاری چینی درآمد کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں