سالانہ چھ6لا کھ روپے تک تنخواہ لینے والےسرکاری اورنجی ملازمین پرانکم ٹیکس عائد نہیں ہوگا

اسلام آباد (نمائندہ نیوزٹویو)حکومت نےسا لا نہ چھ 6لا کھ روپے تک تنخواہ لینےسرکاری و نجی اداروں اور کمپنیوں کے ملازمین پر انکم ٹیکس عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے فنانس بل میں تنخواہ دار طبقے کے لیے نئےتنخواہوں پرنئےانکم ٹیکس ریٹ کا تعین کردیا گیا ہےجس کے مطابق مجموعی طورپر 6 لاکھ روپے تک سالانہ پرتنخواہ پرانکم ٹیکس عائد نہیں ہوگا تنخواہ دار طبقے پر عائد نئے ٹیکس ریٹس مالی سال 2021-22 کے لیے ہوں گے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے فنانس بل کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے نئے سیلری ٹیکس ریٹ کے مطابق 6 لاکھ تک تنخواہ وصول کرنے والے ٹیکس سے مستشنیٰ ہونگے۔ 6 تا 12 لاکھ تنخواہ پر 5 فیصد ٹیکس ہوگا۔ 12 تا 18 لاکھ پر 10 فیصد ٹیکس اور سالانہ 30 ہزار روپے ادا کرنے ہونگے۔ 18 تا 25 لاکھ سیلری پر 15 فیصد ٹیکس اور 90 ہزار روپے سالانہ ادا کرنے ہونگے فنانس بل کے مطابق 25 لاکھ تا 35 لاکھ پر 17 فیصد ٹیکس کے علاوہ 1 لاکھ 95 ہزار روپے سالانہ رقم ادا کرنا ہوگی۔ 35 لاکھ تا 50 لاکھ تنخواہ وصول کرنے والوں کو 17.5 فیصد کے حساب سے ٹیکس اور 3 لاکھ 95 ہزار روپے سالانہ ادا کرنے ہونگے۔ 80 لاکھ تا 1 کروڑ 20 لاکھ سیلری پر 25 فیصد ٹیکس اور 13 لاکھ 45 ہزار روپے سالانہ ادا کرنے ہونگے۔ 1 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ سالانہ سیلری پر 27.5 فیصد کے علاوہ 23 لاکھ روپے 45 ہزار روپے سالانہ بھی ادا کرنے ہونگے۔تین 3تا 5 کروڑ سیلری پر 30 فیصد ٹیکس کے علاوہ 72 لاکھ 95 ہزار روپے سالانہ بھی جمع کرانے ہونگے۔ 5پانچ  تا ساڑھے 7 کروڑ سالانہ تنخواہ پر 32.5 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔ اس سلیب کے تنخواہ داروں کو 1 کروڑ 32 لاکھ 95 ہزار روپے سالانہ بھی جمع کرانے ہونگے۔ ساڑھے 7 کروڑ سالانہ سے زیادہ تنخواہ پر 35 فیصد ٹیکس اور 2 کروڑ 14 لاکھ 20 ہزار روپے سالانہ بھی ادا کرنے ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں