سینٹ میں صدارتی نظام کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور

اسلام آباد(نیوزٹویو) ایوان بالا میں (سینٹ) میں ملک میں جاری صدارتی نظام پر بحث کےخلاف قرارداد کثرت رائے سے اس عہد کے ساتھ منظور کرلی گئی ہے کہ سینٹ 1973کے آئین کے تحت پارلیمانی نظام کاتحفظ کرے گا ۔پیر کو سابق چیئر مین سینٹ سینیٹر رضا ربانی نے ملک میں جاری صدارتی نظام پر بحث کے خلاف قرارداد ایوان میں پیش کی ،یوسف رضا گیلانی، سینیٹر شیری رحمان، سینٹر شفیق ترین،اعظم نزیر تارڑ،مشتاق احمد قرارداد پیش کرنے والوں میں شامل تھے ،مولانا عبدالغفور حیدری،طاہر بزنجو،اور سینٹر ہدایت اللہ قرارداد پیش کرنے والوں کا حصہ تھے ۔متن میں کہاگیاکہ میڈیا کے ایک حصے اور سوشل میڈیا پر پارلیمانی نظام کے خلاف منظم بحث چلائی جا رہی ہے،مہم صدارتی طرز حکومت کیلئے چلائی جا رہی ہے۔

متن میں کہاگیاکہ قائد اعظم نے پاکستان کیلئے وفاقی پارلیمانی طرز حکومت کا تصور پیش کیا،پاکستان کے لوگوں نے وفاقی پارلیمانی نظام کیلئے انتھک جدوجہد کی۔ قرار داد میں کہاگیاکہ 1973 کا آئین پاکستان کا تصور ایک وفاق کے طور پر پیش کرتا ہے،صدارتی طرز حکومت سے وحدانی طرز حکومت قائم ہو جائیں گی۔قرار داد میں کہاگیاکہ صدارتی نظام لانے کیلئے 1973 کے آئین کی ازسر نو تخلیق درکار ہوگی،ایوان 1973 کے آئین کے پیش کردہ پارلیمانی طرز حکومت کا تحفظ کرے گا۔ قرار داد میں کہاگیاکہ دیگر کوئی بھی طرز حکومت وفاق کیلئے تباہ کن نتائج کا باعث بنے گا۔ بعد ازاں ایوان نے قرارداد کثرت رائے سے منظورکرلی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں