محسن پا کستان ڈاکٹر عبدالقدیر انتقال کر گئے،ان کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں ا دا کر دی گئی

اسلام آباد(نیوزٹویو)محسن پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان انتقال کر گئےان کی عمر 85 برس تھی۔ ان کی خواہش اوروصیت کے مطابق ان کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کی گئی نماز جناز ہ میں ارکان پا رلیمنٹ ،وفاقی کابینہ کے ارکان اور عسکری قیادت سمیت عوام کی بھاری تعداد نے شرکت کی ڈا کٹر عبدالقد یر کی نماز جنازہ پروفیسر غزالی نے پڑھا ئی ڈاکٹر قدیر کو سرکاری اعزاز کے ساتھ ایچ ایٹ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا جا ئےگا  صدرعارف علوی، وزیراعظم عمران خان ،مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف ، چیئرمین پا کستان پیپلزپا رٹی بلاول بھٹو،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جا وید باجوہ سمیت وفاقی وزرا،ملک کی دیگرتما م سیاسی اور سماجی شخصیات سمیت عوام نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے وہ پہلے پا کستانی تھے جنھیں تین صدارتی ایوارڈز سے نوازا گیا   بتایا گیا ہے کہ گذشتہ شب پھیپھڑوں کے عارضے کے سبب ان کی طبعیت خراب ہوئی جس پر انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، آئی سی یو میں ڈاکٹروں کی جان توڑ کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی وصیت کے مطابق نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کی گئی۔ انہیں سپردخاک کرنے سے پہلے گارڈآف آنرز پیش کیا جا ئے گا

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ان کی وفات پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پہلے پاکستانی تھے جنہیں تین بار صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا، ملکی دفاع کیلئے ان کی گراں قدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کی وفات پر ہر دل افسردہ ہے، انہوں نے عملی طور پر پاکستان کو دفاعی طاقت بنایا۔

صدرمملکت عارف علوی نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم ملک کیلئے ان کی خدمات کبھی نہیں بھولے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو 1982 سے ذاتی طور پر جانتا تھا۔ انہوں نے جوہری تخفیف کو فروغ دینے میں ہماری بہت مدد کی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی ڈاکٹر خان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی قوم کیلئے ہیرو تھے۔آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر قدیر نے دفاع پاکستان کو مضبوط بنانے کیلئے گراں قدر خدمات انجام دیں، اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عبدالقدیر کے درجات بلند کرے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تمام سروسز چیفس نے بھی گہرے افسوس کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کلیدی کردار ادا کیا، اللہ تعالی ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے  اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رحلت پر پوری قوم افسردہ ہے، پاکستان کیلئے ان کی خدمات ان گنت ہیں، خدا انہیں غریق رحمت کرے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستانی ایٹم بم کا خالق تسلیم کیا جاتا ہے، وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں 3 صدارتی ایوارڈز ملے، ان کو ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ ڈاکٹرعبدالقدیرخان 1936 میں بھوپال میں پیدا ہوئے۔ 1947 میں خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہوئے۔ انجینئرنگ کی ڈگری 1967 میں نیدرز لینڈ کی یونیورسٹی سے حاصل کی۔ انہوں نے بیلجئیم کی یونیورسٹی سے میٹلرجیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی بعد ازاں ایمسٹرڈیم میں فزیکل ڈائنامکس ریسرچ لیبارٹری جوائن کی۔اعلیٰ تعلیم کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1976 میں وطن واپس لوٹ آئے اور اسی برس 31 مئی کو پاکستان کی اٹامک انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کا حصہ بن گئے۔ یکم مئی 1981 کو انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری کا نام تبدیل کر کے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھ دیا گیا۔ شب و روز کی انتھک محنت کے بعد 1998 میں ایٹمی دھماکے کر کے انہوں نے پاکستان کو جوہری طاقت بنانے کا شاندار کارنامہ سر انجام دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں