مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی حکومت سے چھٹکارےکےلیے ایک،تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کرنے کا فیصلہ

لاہور(نیوزٹویو) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف نے کہا ہےکہ پیپلز پارٹی کی تجویزپر حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا فیصلہ ن لیگ کے قائد اور مرکزی مجلس عاملہ کریگی موجودہ حکومت کشمیر کاز کو آگے بڑھانے میں ناکام رہی دہشت گردی نے پھر سراٹھالیا ہے حکومت سے چھٹکارے کے لیے تمام تمام آئینی، قانونی و سیاسی آپشنز استعمال کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا کا تیسرا مہنگا ترین ملک بن گیا ہے وزیراعظم چین سے قرضے لینے گئے ہیں ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیپلزپارٹی کے رہنماوں سے ملاقا ت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا ہفتہ کو پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری کو ظہرانے پر مدعو کیا۔ بلاول بھٹو اور آصف زراری اپوزیشن لیڈر کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پہنچے جہاں شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔شہباز شریف کی معاونت کے لیے مریم نواز، حمزہ شہباز، سعد رفیق، مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں جبکہ بلاول اور زرداری کے ہمراہ حسن مرتضی اور رخسانہ بنگش موجود تھیں۔

دونوں جماعتوں کے وفود کے درمیان احتجاجی لانگ مارچ کا انضمام کرنے اور حکومت مخالف لائحہ عمل سے متعلق اہم گفتگو پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے بعد پی پی کی قیادت کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حکومت کشمیر کاز کو آگے بڑھانے میں ناکام رہی، او آئی سی کے اجلاس میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی، کشمیری بزرگوں، بھائیوں اور بہنوں کا دل پاکستان کی طرف دھڑکتا ہے، ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ حق خود ارادیت ملنے تک پاکستان کا بچہ بچہ ان کے ساتھ کھڑا ہے، انہیں سیاسی و سماجی ہرقسم کی سپورٹ پہلے سے بھی زیادہ فراہم کریں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی نے پھر سراٹھالیا ہے، لاہور اور بلوچستان میں پے درپے کئی حملے ہوئے، دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے کے لیے فوج کے جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، پی پی کے دور میں ضرب مومن کا آغاز ہوا، نواز شریف کے دور میں ضرب عضب اور ردالفساد کے آپریشن ہوئے لیکن بدقسمتی ہے کہ پی ٹی آئی کے تین سالہ دور حکومت میں انہیں توفیق نہیں ہوئی نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے، ہر شعبے کی طرح دہشت گردی کے حوالے سے بھی موجودہ حکومت ناکام ہوئی۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم نہیں بلکہ دنیا کہہ رہی ہے کہ پاکستان اس وقت دنیا کا تیسرا مہنگا ترین ملک بن گیا ہے، پاکستان کی ناکام اور کرپٹ ترین حکومت نے پاکستان کے بچے بچے کو قرضے میں جکڑ لیا ہے۔ پی پی قیادت سے ملاقات کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت آج یہاں تشریف لائی ان کے شکر گزار ہیں، جو کچھ ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے نواز شریف کے دور میں ہوا وہ سب کے سامنے ہے جب کہ پی ٹی آئی نے ساڑھے تین سالہ دور میں کھربوں روپے کے قرضے لے لیے، سنا ہے حکومت چین سے مزید قرضے لینے گئی ہے اور انہیں اس بات کی کوئی شرم نہیں۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہم نے اتفاق کیا ہے کہ ہمیں ملک کو اس حکومت سے چھٹکارا دلانے، مہنگائی اور غربت ختم کرنے کے لیے تمام آئینی و قانونی آپشنز کو بلاتاخیر استعمال کرنا ہوگا، پیپلز پارٹی اس حوالے سے کلیئر ہے، ہم نے طے کیا ہے کہ ہم چند دن میں ن لیگ کی سی ای سی اور الائنس پی ڈی ایم میں اس معاملے کو لے کر جائیں گے اور ان کی اجازت کے بعد ہم اکٹھا ہوکر احتجاج کا اعلان کریں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ ہمارا اکٹھا ہونا کوئی نئی بات نہیں، ایسا الحاق پہلے بھی لندن اور جدہ میں ہوچکا ہے اگر پاکستان کو تباہی سے بچانا ہے تو ہمیں اکٹھا ہونا ہوگا۔ایک سوال پر شہباز شریف نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا ہے، ان کی تجاویز میاں نواز شریف کے سامنے رکھیں گے ہمیں امید ہے کہ مثبت پیش رفت سامنے آئے گی، عدم اعتماد ایک آپشن ہے جسے ہم نے بہت سنجیدگی کے ساتھ ڈسکس کیا ہے، چند دن بعد دونوں جماعتوں کے درمیان ایک اور میٹنگ ہوگی، پہلے ن لیگ کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ ہوگی پھر یہ معاملہ پی ڈی ایم میں لے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں