امریکی اڈے پا کستان منتقل نہیں ہو رہے

وزیر خا رجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ قبلہ ء اول مسجد اقصٰی میں جو بربریت ہو رہی ہے اس پر ہمیں گہری تشویش ہے کابل بم دھماکے کی مذمت کرتے ہیں بھارت کشمریوں پر مظا لم ترک کرے اور اپنے اقدا مات واپس لے تو پاکستان اہنے موقف پر نظر ثا نی کے لیے تیا ر ہیں پا کستان میں کو ئی ا مریکی بیس منتقل نہیں ہو رہے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے وزارتِ خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب  کرتے ہو ئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب میں سیکرٹری جنرل او آئی سی سے ملاقات میں اس حوالے سے پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا ترک وزیر خارجہ سعودی عرب میں سعودی حکام کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کریں گے فلسطین کے معاملے پر پاکستان کا ترکی کی طرح ٹھوس موقف ہے ترک وزیر خارجہ او آئی سی کے ھنگامی اجلاس طلب کرنے کے حوالے سے بات کریں گے ستاسویں کی رات نہتے لوگوں کو اقصٰی مسجد میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ان پر گرینڈوں سے اور ربر بلٹس سے حملہ کیا گیا پاکستان اس بربریت کی شدید مذمت کرتا ہےنہتے شہریوں پر حملے کی اجازت کون سا قانون دیتا ہے؟میری گذشتہ رات وزیر اعظم عمران خان صاحب سے بھی بات ہوئی اور انہیں بھی میں نے اعتماد میں لیا جرمنی ایران، اردن اور بہت سے ممالک نے اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہےوزیر اعظم عمران خان کا دورہ ء سعودی عرب غیر معمولی نوعیت کا تھاولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان خود وزیر اعظم عمران خان کو خوش آمدید کہنے کیلئے ایرپورٹ تشریف لائےہمارے اور سعودی عرب کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں جنہیں اس دورے نے نئ جہت دی ان کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ایک ادارہ جاتی میکنزم تشکیل پایا ہے اس ادارہ جاتی میکنزم کے خدوخال ہم نے طے کر لیے ہیں بیروزگاری ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہےسعودی ولی عہد کے وژن 2030 کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہمیں مزید ورک فورس کی ضرورت ہو گی-اگلے چند سالوں میں انہیں 10 ملین افرادی قوت درکار ہو گی ور وہ پاکستان سے خاصی تعداد لینے کے خواہشمند ہیں سعودی عرب کے دورہ کے دوران پانچ ایم او یووز پر دستخط ہوئےدو معاہدے وزارتِ داخلہ سے متعلقہ ہیں ہائیڈرو پاور، متبادل توانائی کیلئے ہمیں سعودی فنڈ سے 500 ملین ڈالر کی رقم فراہم کریگا کلوزگروپ ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف اور میں خود شریک تھااس کلوز میٹنگ میں کشمیر کے معاملے پر ہم نے کھل کر اپنا موقف پیش کیا صورت حال کو خراب ہندوستان نے کیا ہےاگر ہندوستان ان اقدامات پر نظرثانی کرتا ہے تو ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں میری سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ملاقات ہوئی جو کافی سودمند رہی عید الفطر کے بعد سعودی حکام کا ایک وفد پاکستان آئیگا اور ہم باہمی معاملات کو آگے بڑھائیں گےسعودی وزیر خارجہ تشریف لائیں گے اور ہم سعودی ولی عہد کے اگلے دورہ پاکستان کے امور طے کریں گے انہوں نے بتا یا کہ آرمی چیف جنرل باجوہ نے افغانستان کا دورہ کیا ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں کابل میں سکول پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہےہم افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ہم افغانوں کے باہمی مذاکرات سے افعان مسئلے کے سیاسی حل کے خواہشمند ہیں جب انخلاء کا عمل شروع ہو چکا ہے افغانستان میں قیام امن کی ذمہ داری افغان قیادت پر ہےافغانستان میں قیام امن سے پاکستان اور پورا خطہ مستفید ہو گاگوادر مختصر تجارتی راستہ فراہم کرتا ہےہماری جغرافیائی اقتصادی ترجیح کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بھی یہ انتہائی اہم ہےانہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو سعودی عرب میں سفارت خانے کے حوالے سے کچھ شکایات موصول ہوئیں جس پر انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا مجھے جس طرح اس کی میڈیا کے ذریعے تشہیر کی گئی اس پر تحفظات ہیں اس میڈیا تشہیر کا فائدہ ہندوستان نے اٹھایا اور پاکستانی سفراء کو تنقید کا نشانہ بنایا سفارتخانوں میں قونصلر سروسز سے وابستہ کچھ افسران ایسے بھی تعینات ہوتے ہیں جو براہ راست وزارت خارجہ کے ماتحت نہیں ہوتے ہم اس حوالے سے جامع تحقیقات بھی کر رہے ہیں کارکردگی کی بہتری کیلئے جامع تجاویز بھی مرتب کر رہے ہیں جنہیں ہم وزیر اعظم صاحب کی خدمت میں جلد پیش کریں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے مفاد کا تحفظ کرتے ہوئے آگے بڑھنے کیلئے پرعزم ہےپاکستان، افغانستان کی ترقی کے ساتھ ہے پاکستان کسی فریق کے ساتھ نہیں افعان حکومت اور طالبان کے مابین جنگ بندی معاہدہ خوش آئند ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں ہم امن میں شراکت داری کے لیے پرعزم ہیں سب سے زیادہ ذمہ داری افغانوں پر عائد ہوتی ہےدوست ممالک کا کردارہمیشہ مصالحانہ ہوتا ہے پاکستان میں کوئی بیس منتقل نہیں ہو رہےپاکستان نے ہمیشہ طالبان کو بھی مذاکرات کی راہ اپنانے کی ترغیب دی ہے اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کی بات کی ہے اوراس کا نتیجہ دوحہ میں امن معاہدے کی صورت میں دیکھا ہے اگر عید کے بعد استنبول کانفرنس کا انعقاد ہوتا ہے تو چیزیں مزید بہتری کی جانب جائیں گی انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ سیاست سے بالاتر ہے پاکستان کا موقف انتہائی ٹھوس اور واضح ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہےہندوستان کا آرٹیکل 370 کشمیریوں کو ایک اسپیشل سٹیٹس دیا گیا جب اسے ختم کیا گیا تو تمام کشمیریوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا اور ہم نے بھی کیاپا نچ 5اگست 2019 کے بعد ہماری کاوشوں سے تین دفعہ مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لایا گیا پینتس 35اے کے خاتمے کے ذریعے ہندوستان آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہےوہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدل رہے ہیں ہمیں اس پر شدید تشویش ہےکشمیر، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے پھر یہ ہندوستان کیلئے اندرونی مسئلہ کیسے ہو سکتا ہے؟ فی الحال ہندوستان کے ساتھ کوئی ٹاکس نہیں ہو رہیں لیکن اگر ہندوستان مذاکرات چاہتا ہے تو انہیں کشمیریوں پر جاری مظالم کی پالیسی کو ترک کرنا ہوگااگر بھارت کشمیریوں کا تشخص بحال کر دے تو یہ ساز گار ما حول کے قیام کی جانب قدم ہوگا   

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں