پاکستان تحریک ا نصاف کے نظریا تی گروپ کا دباواوروزیرداخلہ شیخ رشید کا دورہ لا ہورکام کر گیا حکومت کی جانب سے باہمی نا راضگیاں ختم کرنے کے جانب پہلا قدم ا ٹھا لیا گیا ہے پی ٹی آئی کی قیادت ناراض ا رکان کے گلے شکوے اور تحفظات دور کرنے پر تیا ر ہو گئی ہے پارٹی ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور ناراض پارٹی رہنما جہانگیر ترین گروپ کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ ہوا ہے وزیرا علیٰ ہاوس سے اور سینئر وفاقی وزرا نے جہانگیرترین سے رابطہ کیا ہے۔ اس حوالے سے حکومت اور جہانگیرترین گروپ کے درمیان معاملات طے پاگئے ہیں۔را جہ ریا ض کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ ہاوس کی جانب سے را بطہ قائم کر کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرا ئی گئی ہے
ذرائع کے مطابق جہانگیرترین گروپ نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ جہانگیر ترین گروپ کے ہم خیال ارکان بجٹ میں حکومت کو ووٹ دیں گے جہانگیر ترین نے پنجاب حکومت سے متعلق تحفظات وفاقی وزرا کے سامنے رکھے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین کے پنجاب حکومت سے متعلق اعتراضات دور کیے جائیں گےذرائع کے مطابق جہانگیر ترین گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے گروپ کے ارکان کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائےذرائع کے مطابق حکومت اور جہانگیر ترین گروپ کے درمیان ہفتے کو دوبارہ ملاقات ہوگی۔
وا ضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینئر سیاستدان جہانگیر خان کے ہم خیال سیاستدانوں نے جہانگیر ترین گروپ کے باقاعدہ قیام کا اعلان کردیا ہے۔ جہانگیر ترین گروپ نے فوری طور پر قومی اور صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈرز بھی مقرر کردیے ہیں پنجاب اسمبلی کے رکن نذیر چوہان کا کہنا ہے کہ راجہ ریاض کو قومی اسمبلی میں جہانگیر ترین گروپ کا پارلیمانی لیڈر مقرر کیا گیا ہے جب کہ سعید اکبر نوانی پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ہوں گے۔نذیر چوہان کے مطابق جہانگیر ترین گروپ نے تین رکنی مذاکراتی کمیٹی بھی قائم کردی ہے جس کے اراکین میں راجہ ریاض، نعمان لنگڑیال اور وہ خود شامل ہیں جہانگیر ترین گروپ کے باضابطہ گروپ کے قیام کا اعلان جہانگیر ترین کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں کیا گیا تھا۔