سابق جج شوکت صدیقی کی برطرفی کے فیصلے کے خلاف درخواستوں کی سما عت،حقا ئق تسلیم شدہ ہیں، لا رجر بنچ ریمارکس

اسلام آ باد ( نمائندہ نیوز ٹو یو ) سپریم کورٹ کےلا رجربنچ نےاسلام آباد ہا ئیکورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی کی برطرفی کے معاملے پر  سپریم جو ڈیشل کونسل کے فیصلے کےخلاف کی گئی اپیلوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ جس ریفرنس میں برطرفی ہو ئی اس میں حقائق تسلیم شدہ ہیں جب حقا ئق تسلیم کیے گئے ہوں تو ا نکوا ئری کمیٹی کچھ نہیں کر سکتی اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے معاملہ پر سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کیخلاف شوکت صدیقی کی اپیل پر سماعت ہو ئی جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت  کی سابق جج جسٹس شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا دلا ئل دیتے ہو ئے کہا کہ کیس کی آخری سماعت فروری میں ہوئی تھی جلد سماعت کیلئے متعدد بار درخواستیں بھی دیں حکومت نے ابھی تک جواب جمع نہیں کرایا اس پرا اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس میں ہمارا جواب دینا بنتا ہی نہیں جسٹس عمر عطا بندیا ل نے کہا کہ آپ آرٹیکل 211 کے اسکوپ پر دلائل دیں سپریم کورٹ میں ہزاروں مقدمات زیر التوا ہیں آپ بہتر جانتے ہیں کہ کونسے کیس کی وجہ سے اس کیس میں تاخیر ہوئی 26اپریل کو ختم ہونے والے مقدمے کا فیصلہ بھی لکھ رہے ہیں لارجر بینچ کی تشکیل سے دوسرے مقدمات متاثر ہوتے ہیں شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے دلائل جاری رکھتے ہو ئے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے کھلی عدالت میں انکوائری نہ کرنے کا جوڈیشل کونسل کا فیصلہ چیلنج کیا تھاسپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ کالعدم قرار دیاسپریم کورٹ نے جوڈیشل کونسل کیخلاف دائرہ اختیار ہونے پر ہی فیصلہ دیا سپریم کورٹ نے درخواست قابل سماعت ہونے پر ہی ریلیف دیاجسٹس عطا عمر بندیال نے ریمارکس دئیے کہ درخواست قابل سماعت سمجھنے اور قرار دینے میں فرق ہے جسٹس ا عجاز ا لاحسن نے کہا کہ جس بنیاد پر درخواست قابل سماعت سمجھی گئی وہ دیکھنا بھی ضروری ہے حامد خان نے کہا کہ آرٹیکل 209 کے تحت مجھے بھی بنیادی حقوق تک رسائی دی جائےجسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نوٹس، سماعت تک تو بات ٹھیک ہے،

 جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ یہاں شوکت عزیز صدیقی ملزم ہیں پیڈا ایکٹ بھی کچھ قانون ہیں ثبوت تو وہ جو ثابت کرنے کی بات ہو، یہاں تو ریکارڈ موجود ہے شوکت صاحب ذہین اور قابل ہیں حامد خان  نے کہا کہ یہ کیس مفروضات پر مبنی ہےان مفروضات پر انکوائری ہونی چاہیے تھی جو کسی نے نہیں کی شوکاز سے پہلے کنڈکٹری انکوائری ہونی چاہیے تھی ایک دو جج بلاتے، وضاحت طلب کرتے پہلے انکوائری ہوتی بعد میں شوکاز جاری ہوتایہاں معاملہ بالکل متضاد تھا، شوکاز پہلے جاری ہوا شوکت عزیز صدیقی کیخلاف کوئی انکوائری نہیں کی گئی جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تقریر اور اس کے نقاط سے انکار نہیں کیا گیا جوڈیشل کونسل نے سمجھا مزید تحقیقات کی ضرورت نہیں شوکت صدیقی کے وکیل حا مد خان نے کہا کہ انکوائری نہ کرنے کی وجوہات برقرار نہیں رکھی جا سکتی وجہ کچھ بھی ہو انکوائری کے بغیر کسی کو نکالا نہیں جا سکتا شوکت عزیز صدیقی کیخلاف چوتھا ریفرنس تھا جس میں برطرف ہوئے جسٹس سردار طارق نے کہا کہ جس ریفرنس میں برطرفی ہوئی اس میں حقائق تسلیم شدہ ہیں حقائق تسلیم شدہ ہوں تو انکوائری کمیٹی کیا کرے؟ شوکت صدیقی کے وکیل نے کہا کہ الزامات چاہے غلط ثابت ہوتے لیکن انکوائری ضروری تھی بار سے ججز کا خطاب کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی نہیں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری بھی بار سے خطاب کرتے رہے جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ افتخار چوہدری بار سے ہمیشہ لکھی ہوئی تقریر کرتے تھے افتخار چوہدری نے کبھی تقریر میں کسی پر الزام نہیں لگایا تھا،شوکت عزیز صدیقی نے جو طریقہ اپنایا وہ دیکھیں جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا جج کو اس انداز میں گفتگو کرنی چاہیےعدالت نےکیس کی مزید سماعت بدھ تک ملتوی کر دی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں