چیف جسٹس کا سٹیٹ بینک پر برہمی کا اظہا ر ،افسران تنخواہیں لے کر ادارے تباہ کرتے ہیں،انتظامیہ کو فارغ کردینا چا ہیئے

اسلام آباد(نیوزٹویو) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سٹیٹ بینک کی انتظامیہ پر برہمی کا ا ظہا ر کرتے ہو ئےکہا ہے کہ بڑے افسران تنخواہیں لے کر اداروں کو تباہ کر دیتے ہیں اسٹیٹ بینک کی تو پوری ا نتظامیہ کو ہی فارغ کردینا چا ہیئے جمعرات کو سپریم کورٹ پاکستان میں گولڈن ہینڈ شیک اسکیم سے متعلق اسٹیٹ بینک کی اپیل پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی عدالت نے اسٹیٹ بینک کی اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی ہے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے اسٹیٹ بینک کی انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افسران نے دیگر ملازمین کے بجائے اپنی تنخواہیں بڑھا دیں۔ یہاں تو اسٹیٹ بینک کی پوری انتظامیہ کو فارغ کرنا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا اور یہ اتنا بڑا نقصان بینک انتظامیہ کی نااہلی سے ہوا ہے۔ اس طرح کے معاملات سامنے آتے ہیں تو تکلیف ہوتی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ شرم کی بات ہے بڑے افسران تنخواہیں لے کر اداروں کو تباہ کر دیتے ہیں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے وکیل سے استفسار کیا کہ ادارے کو بعد میں کتنے روپے ادا کرنے پڑے ؟ جس پر وکیل اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کو 2 ارب روپے ادا کرنے پڑےچیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اتنے بڑے نقصان کے بعد آپ کے کسی آفسر کو اثر ہی نہیں ہوا ہو گاملازمین کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے وکیل نے تو متعلقہ دستاویزات ہی نہیں لگائیں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ جیسے سینئر وکیل سے ہم یہ امید نہیں کرتے تھےواضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ عدالت نے سٹیٹ بینک کی اپیل  سماعت کے لیے منظور کر تےہو ئے کیس کی مزید سماعت چھ ماہ کے لیے ملتوی کر دی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں