آئی ایم ایف بجٹ کے طعنے دینے والی پیپلز پارٹی اور ن لیگ 11 مرتبہ آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ بنیں، فرخ حبیب

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ آئی ایم ایف بجٹ کے طعنے دینے والی پیپلز پارٹی اور ن لیگ 11مرتبہ آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ بنیں۔ 1999تا 2017 تک تین مرتبہ ملک بینک ڈیفالٹ کی قریب پہنچا اسوقت بھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں تھیں، مہنگے ریٹس پر مقامی قرض لیکر زرادری اور نواز شریف نے سوئرز لینڈ اور لندن میں محلات بنائے،ماضی کی ان حکومتوں کی عیاشیوں، منی لانڈرنگ، کرپشن، جعلی اکاؤنٹس اور ٹی ٹیز کی وجہ سے حکومت کو 3ہزار ارب سود کی مد میں ادا کرنا پڑ رہے ہیں،14سالہ حکومت کرنے والے مراد علی شاہ کے مقابلے میں تین سالہ حکومت کرنے والے عثمان بزدار  کارکردگی جیت چکے ہیں، سندھ نے 155ارب کے ترقیاتی پروگرام میں سے 100ارب خرچ، 317ارب ٹیکس وصولوں کے ہدف میں    243ارب اکٹھے کیے، پنجاب کا 337ترقیاتی بجٹ تھا 375ارب خرچ ہوئے، ٹیکس وصولیوں کا بدف 317ارب تھا جبکہ وصولیاں 358ارب ہیں، حکومت نے آئی ایم ایف کے جی ڈی پی، ٹیکس وصولیوں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف حاصل کیا ہے۔وہ منگل قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کر رہے تھے۔ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ   پاکستان کی ترقی اور معشیت کے حوالے سے بہت سی کہانیاں سنائی جاتی رہیں،کہاں جاتا ہے کہ ان کے دور میں شائد ملک میں دودھ اور شہید کی نہریں بہہ رہیں تھیں، ایسا نہیں تھا یہ کہا جاتا رہا کہ پی ٹی آئی حکومت آئی ایم کے پاس ابھی تک نہیں گئی،جب ہم نے آئی ایم ایف سے رجوع کیا تو کہا گیا کہ پی ٹی آئی ایم ایف ایف بجٹ لائی۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد دانشور کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام معطل ہو چکا ہے، یہ بتائیں کہ یہ آئی ایم ایف پروگرام کے حق میں ہیں یا مخالف ہیں،انھیں پاکستان میں آئی ایم کی تاریخ سے آگاہ کرتا ہوں، 1972سے 2013تک پیپلز پارٹی نے 8مرتبہ، 1999سے 2018تک ن لیگ 3مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گئی، اگر ان کے ادوار کی معاشی گروتھ اتنی اچھی تو کیوں آئی ایم ایف کے پاس گئے،1999،2008 اور  2017-18 میں پاکستان بینک ڈیفالٹ ہونے جارہا تھا تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، اسی دور میں لندن میں ایون فیلڈ، سوئزرلینڈ میں سرے محل بنائے جارہے تھے، ان دونوں حکومت نے اپنے ادوار میں  مہنگے مقامی قرض لئے اور فیزیکل ڈیفیسسٹ 18فیصد تک رہا، اس وقت بیرونی قرض بھی نہیں اور سود کی ادائیگی بھی نہیں تھی،ماضی کی ان حکومتوں کی عیاشیوں، منی لانڈرنگ، کرپشن،جعلی اکاؤنٹس اور ٹی ٹیز کی وجہ سے حکومت کو 3ہزار ارب سود کی مد میں ادا کرنا پڑ رہے ہیں،اپنی کرپشن اور کک بیکس کو فنانس کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے جی ڈی پی گورتھ 1.5فیصد کی پیشن گوئی کی تھی، ہماری محنت کے باعث جی ڈی پی 4فیصد پر ترقی کر رہی ہے، آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولیوں کی پیشن گوئی 4690ارب کیا تھا، ہم مالی سال مکمل ہونے تک 4700ارب سے بھی اوپر چلے جائیں گے، جی ڈی پی کی طرح 30جون کو ٹیکس وصولیوں کے حوالے سے بھی سرپرائز دیں گے،آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ اس سال پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ساڑھے 7فیصد ہوگا لیکن ہماری محنت سے 800ملین ڈالر سرپلس ہے،ہم نے زرمبادلہ کے حوالے سے بھی آئی ایم ایف کے اہداف حاصل کیے ہیں،ہم ماضی کی حکومتوں کی طرح ہاتھ باندھ کر آئی ایم ایف کی ہر بات نہیں مان رہے۔ وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ عمران خان نے پیٹ پر پتھر باندھ کر تین سال محنت کی اور آئی ایم ایف کے اہداف حاصل کیے،عمران خان نے تین سالوں کے دوران کفایت شعاری مہم کے ذریعے وزیراعظم آفس اور ہاؤس کے اخراجات میں سے ایک ارب کی بچت کی ، زرادری، نواز شریف اور عمران خان کے بیرون ممالک دوروں پر اخراجات میں زمین آسمان کا فرق ہے،افغانستان کا دورا نواز شریف نے 58ہزار ڈالر، زرادری نے 46ہزار ڈالر جبکہ عمران خان نے 9ہزار 600ڈالر مین کیا، امریکہ کا دورہ زرداری نے ساڑھے 7لاکھ ڈالر،نواز شریف نے ساڑھے 3لاکھ ڈالر جبکہ عمران خان نے 6ہزار 700ڈالر میں کیا،سوئزر لینڈ کا دورہ نواز شریف نے 7لاکھ 8ہزار ڈالر، گیلانی نے ساڑھے چار لاکھ ڈالر جبکہ عمران خان نے 52ہزار ڈالر میں یہ دورہ کیا ہے،عمران خان کا کوئی کیمپ آفس نہیں ہے، نہ ہی ہیلی کاپٹر کے زریعے بریانی، لیسی،کریلے لائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے والوں کے لئے 100سے زائد لنگر خانے بنائے،بی آئی ایس پی سے ساڑھے 8لاکھ جعلی لوگوں کو نکالا گیا، بی ایس آئی پی پیپلز پارٹی دور میں 70ارب،ن لیگ دور میں 121ارب، موجودہ حکومت نے احساس پروگرام کابجٹ 260ارب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں کہا گیا کہ ن لیگ دور میں زرعی گروتھ بہت مثالی تھی،حقیقت میں ن لیگ کے دور میں زرعی گروتھ 0.69فیصد تھی۔ وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ 22فیصد قرض بڑھانے سے گنے کی فصل کے کسان کو 100ارب، گندم کے کسان کو 500ارب اور مجوعی طور پر کسان کو 1100ارب اضافی گئے، جو آج کہہ رہے ہیں کہ کسان خوشحال نہیں، ماضی میں انہی کی شوگر ملوں والے غریب کسان کا گنا چوری کراتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گنے کی پیداوار میں 31فیصد، چاول کی پیدوار میں 27فیصد، گندم کی پیداوار میں ساڑھے سات فیصد، مونگ کی پیدوار میں 60اور تل کی پیداوار میں 65فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو 3500ارب کی منتقلیاں اس سال ہونے جارہی ہیں، شہباز اور بلاول کی اپنی کرپشن، جعلی اکاؤنٹس اور ٹی ٹیز کی گروتھ رک گئی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے این ایف سی میں 329ارب اضافی جائیں گے جس میں سے 68ارب تنخواہوں اور پنشن کے لئے،سندھ کو128ارب جائیں گے جس میں سے 93ارب تنخواہوں اور پنشن پر خرچ ہونگے،بڑی باتیں کرنے والے بلاول کی سندھ حکومت کا ٹیکس وصولیوں کا ہدف 313ارب جبکہ وصولیاں 243ارب ہی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کوویڈ اور تمام تر چیلجنز کے باوجود 216ارب کے ریکارڈ ریفنڈ کر کے ہدف سے زائد ٹیکس وصولیاں کیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا ترقیاتی بجٹ 155ارب، خرچ ہوئے 100ارب،سندھ کے کسان،ہاریوں، غریبوں اور تھر کے لوگوں کو حقائق بتا رہا ہوں،عمران خان نے سندھ حکومت کو 1900ارب دیئے، بتائیں وہ کہاں خرچ ہوئے،بلاول ہاؤس کی دیواریں اونچی کرنے،اپنے جعلی اکاؤنٹس اور ایان علی جیسی خواتین کے ذریعے باہر چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بات ہوئی اضافی بجلی ک، اس قوم کو اضافی نہیں سستی بجلی چاہیے،1963میں مکمل ہونے والے مہمند ڈیم پر عمران خان نے کام شروع کرایا، دیامر سے 4500میگا واٹ، داسو سے 4300میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایوریج مائنٹ اشخاص بارے جبکہ عمران خان جیسے گریٹر مائنڈ آئیڈیاز پر سوچتے ہیں،ہماری گرین اینڈ کلین پاکستان مہم کا مذاق اڑانے والوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ دنیا میں گرین ڈپلومیسی میں عمران خان واحد پہچان بن چکے ہیں، ورلڈ اکنامک فورم، اقوام متحدہ سمیت کوئی بھی عالم فورم ہو وہاں موسمیاتی تبدیلی ایجنڈے میں شامل ہوتی ہے، 2018میں موسمیاتی تبدیلی کے لہے 80کروڑ کا بجٹ رکھا گیا، موجودہ حکومت اس سال ساڑھے 14ارب خرچ کرنے جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 50آئی پی پیز سے مذاکرات کر کے 770ارب کی بچت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی درآمد کے لئے ماضی میں 13.50فیصد پر مہنگے معاہدے کیے، موجودہ حکومت نے دوبارہ ڈیل کی اور 10.3فیصد پر لے آئی۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ فیصل آباد کو ٹیکسٹائل کا قبرستان بنا کر چلی گئی اور موجودہ حکومت نے دوبارہ ٹیکسٹائل شعبے کو پاؤں پر کھڑا کیا ہے،فیصل آباد اقتصادی زون، رشکئی اقتصادی زون میں سرمایہ کاری آرہی ہے، لانڈی میں سیوریج زدہ  اور گڑھوں والا پلاٹ اتنا مہنگا ہے کہ کوئی وہاں کا رخ نہیں کررہا۔ انہوں نے کہا کہ صرف ٹیکسٹائل صنعت کے لئے سٹیٹ بینک نے ٹی اے آر ایم کے ذریعے 432ارب کے قرض دیئے،657ارب کے قرض موخر اور شرح سود کم ہونے سے 470ارب کی بچت ہوئی۔وزیر مملکتفرخ حبیب نے کہا کہ ہمیں حکومت ملی تو اس وقت فی کس آمدن 1لاکھ 86ہزار اور اس وقت 2لاکھ 46ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی گروتھ مانگے تانگے اور کریڈٹ کارڈ والی تھی جبکہ ہماری گروتھ ایکسپورٹ، پیداوار، انڈسٹریل اور زرعی گروتھ ہے،آنے والے وقتوں میں قرضوں کی دلدل سے نکل آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں 2014-2017 میں سکوک بانڈ جاری کیے، اسحاق ڈار نے ایم ٹو موٹر وے گروی رکھی، جناح ائیر پورٹ گروی رکھا گیا، موجودہ حکومت نے سکوک بانڈ میں کوئی اثاثہ گروی نہیں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے امریکہ کو دو ٹوک جواب دیکر ثابت کیا کہ انہوں نے قوم سے جو وعدہ کیا کہ اللہ تعالی کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے وہ پورا کردیکھایا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں