آرٹیکل 203اے پرتحفظات ہیں،موجودہ حالات میں اس سے بہترین بجٹ پیش نہیں کیا جا سکتا،صدرراولپنڈی چیمبرناصرمرزا

راولپنڈی (نمائندہ نیوزٹو یو ) راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صد ر نا صر مرزا نےکہا ہے ان حالات میں اس سے بہترین بجٹ پیش نہیں کیا جا سکتا تھا رواں ما لی سال کا ٹیکس ریو نیو کے اہداف حا صل نہ بھی کر پا ئے تو اس کے قریب ترین پہنچ جا ئیں گے وزیرخزانہ نے جواہداف پیش کیے ہیں حکومت ان کو حا صل کس طرح کرے گی اصل مسئلہ یہ ہوگا جبکہ کئی قسم کی سبسڈیز بھی حکومت نے دینے کا اعلان کیا ہے انہوں نے بتا یا کہ راولپنڈی چیمبر آف کا مرس نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ اگر آپ اپنے محصولا ت کے اہداف حا صل کرنا چا ہتے ہیں تو آپ کو اپنے ٹیکس نیٹ کی بنیاد کو بڑھا نا ہو گا موجو دہ ٹیکس دہندگان پر سختی کر کے ان سے یہ ریونیو حاصل کرکے اہداف پورا کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ ناممکن ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک آدمی کے لیے سب سے زیا دہ پریشانی کی چیز مہنگا ئی ہے حکومت کو ان چیزوں کا  احساس بھی ہے لیکن حکومت کی کچھ اپنی مجبوریا ں ہیں  ہم نے تجویز دی ہے کہ حکومت انڈسٹریلا ئزیشن اگر کر لے تواس کے ا ثرات نیچے تک پہنچیں گے صنعت ترقی کرے گی تو روزگار میں ا ضا فہ ہو گا اور مہنگا ئی میں کمی ہو گی لا رج سکیل مینو فیکچرنگ کا جی ڈی پی گروتھ میں بہت بڑا ہا تھ ہے ملک میں آٹو سیکٹر اور سیلولر سیکٹر میں کئی یو نٹ لگے ہیں ملک میں پا ئیدار ترقی اس وقت ہو گی جب آپ کی صنعت کا پہیہ چلتا رہے گا حکومت نے صنعتوں کے خام مال کے اوپر کا فی سبسڈیز دی ہیں یہ ایک احسن اقدام ہے انہوں نے کہا کہ ہم ایک زرعی ملک ہو نے کے با وجو د چینی، آٹا ،کپاس تک درآمد کررہے ہیں اگر ہم زرعی شعبے پر تو جہ دیں دیں تو ہم مہنگا ئی پر قابو پا سکتے ہیں زرعی شعبے کو زیادہ سے زیا دہ سہولتیں دی جا ئیں اگر حکومت معا شی ترقی چا ہتی ہے تو اسکو کسانوں اور صنعتوں کو سستی بجلی دینا ہو گی اگرحکومت انرجی میں سہولت نہیں دے سکتی تو پھر سولر سسٹم لگانے میں اس طرح کی سہولیات دے کہ کسان اور انڈسٹری سولر سٹم پر شفٹ ہو جا ئے انہوں نے کہا کہ ہر بجٹ میں چھپی ہو چیزیں ہو تی ہیں جو بعد میں سا منے آتی ہیں انہوں نے ایک آرٹیکل 203اے متعارف کرایا ہے کہ ایف بی آر بغیر کسی تحقیقات کے کسی بھی تا جر کو گرفتار کر سکتا ہے اس پر ہمارے تحفظا ت ہیں اس بجٹ میں حکومت نے چھوٹے تاجر پر کو ئی ٹیک سنہیں لگایا جس کا ا ثر اس پر پڑے اگر حکومت نے کو ئی ریلیف نہیں دیا تو بوجھ بھی کو ئی نہیں ڈالا ہے صرف ا حساس پروگرام کے ذریعے عوام کو 255ارب کا ریلیف دیا دہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کووڈ کی و جہ سے بہت زیا دہ نقصان نہیں ہوا بلکہ کئی سیکٹر میں تو فائدہ ہو اہے یہ اللہ کی مہربانی ہے جو چھوٹے چھوٹے تاجر ہیں جو اس دوران بے روز گار ہو ئے ان کو حکومت نے بینکوں کے ذریعے سہولیات سی ہیں جو ایک بہت بڑا اقدام ہے   

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں