اسلام آبادہائیکورٹ نے پی ٹی اے سےسوشل میڈیاپرگستاخانہ مواد کو ہٹانےکا مستقل حل طلب کر لیا

اسلام آباد(نما ئندہ نیوزٹویو)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی عدالت نےسوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے خلاف درخواست میں گستاخانہ مواد ہٹانے کا مستقل حل طلب کرلیا، عدالت نےایف آئی اے اور پی ٹی اے کے رویے شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے ایڈیشنل ڈی جی ایف اے اور ڈی جی ویجیلینس پی ٹی اے کوآئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کہاہےکہ اس معاملے میں پہلے بھی آپ کو کہا ہے مستقل حل نکالیں لیکن آپ نے کچھ نہیں کیا،جب تک مستقل حل نہیں نکالیں گے اس کیس کو ختم نہیں کروں گا۔گذشتہ روز سماعت کے دوران عدالت نے پی ٹی اے کنسلٹنٹ سےاستفسار کیاکہ پی ٹی اے افسر کو بلایا تھا کدھر ہے ؟مجھے سینئر آدمی چاہیے وکلاء کو ہی بلانا ہوتا تو صرف نوٹس کرتا، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی نہیں آتا تو پھر چیئرمین پی ٹی اے کو بلا لیتا ہوں،ہر مسلمان کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے اس لیے کہا ہے اس کا مستقل حل نکالیں،ایک بھی اکاؤنٹ ہو ایک بھی لنک ہو وہ بھی ختم کریں لیکن میکنزم مستقل بنیادوں پر بنانا ہو گا ،جسٹس عامر فاروق نے یہ بھی کہاکہ میں اگر آج نمٹا دوں تو آپ لوگ اس شکایت کی حد تک کچھ کرکے بیٹھ جائیں گے،ہم ہر مذہب کی عزت کرتے ہیں لیکن مسلمان ہونے کے ناطے اس قسم کا مواد کسی صورت قبول نہیں،کیا آزادی رائے کے نام پر اس کو چھوڑا جا سکتا ہے،یہ تو مفاد عامہ میں پٹیشن آئی وگرنہ یہ سب کے لیے مشترکہ مسئلہ ہے،ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہاکہ جس علاقے کی شکایت ہو گئی ادھر ہی بھیج دینگے،جس پر عدالت نے کہاکہ ہمارے ساتھ بیوروکریسی کی طرح نہ کھیلیں ،آپ کے نئے ڈی جی آ گئے ان کو بلا لیتے ہیں پہلا وزٹ یہاں کا کرا لیتے ہیں،عدالت نےمذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 22 جون تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں