اسلام آباد میں جبری مشقت اور پیشہ ور بھکاریوں کا خاتمہ کر دیا ، حمزہ شفقات

ڈپٹی کمشنراسلام آباد حمزہ شفقات نے کہا کہ اسلام آباد میں جبری مشقت کی بہت شکایات تھیں ۔ ایک خاتون نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک کمیٹی بنائی جس میں سول سوسائٹی ، پریس کلب اور انسانی حقوق کے لوگ تھے اور ہم نے اسلام آباد کا معائنہ کیا 48 اینٹوں کے بھٹے تھے جہاں پر جبری مشقت کرائی جا رہی تھی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیوز ٹو یو کے پروگرام نیوز ٹو یو سپیشل میں گفتگو کے دوران کیا ۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہمیں تفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ ہر اینٹوں کے بھٹے پر اصول بنایا ہوا ہے کہ کسی خاندان کو ایک لاکھ روپے قرض دے کر بدلے میں دو یا تین سال ان سے بھٹوں پر کام کرایا جاتاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب خفیہ ٹیم بنائی  اور تفتیش کی تو ان کو گرفتار کیا اور مقدمات درج کر کے جیلوں میں بند کیا ۔ 90 فیصد بھٹوں کو بند کروا دیا ہے جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہماری کارکردگی کو سراہا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں ڈپٹی کمشنراسلام آباد حمزہ شفقات نے کہا کہ جبری طور پر بھیگ مانگنے والوں کو گرفتار کیا اور تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ اس مافیا میں پولیس اہلکار اور وکلاء بھی ملوث ہیں تاہم اس پر بھی کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے ۔ سڑک پر جو بچہ نظر آتا ہے ہم اسے کچھ نہیں کہتے اس کو ہم ایدھی سینٹر بھیج دیتے ہیں لیکن ان کے پیچھے جو بندہ آتا ہے اس کو ہم جیل بھیج رہے ہیں جس کی وجہ سے اسلام آباد میں 90 فیصد بھکاری کم ہو چکے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں