امریکہ اوریورپ سمیت بیرونی ممالک میں پاکستان کے خلاف ہر چھپنے والے لفظ کی قیمت ادا کی جا تی ہے،فوادچوہدری

اسلام آباد (نیوزٹویو)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں 250 ملکی اور 43  عالمی چینلز آزادانہ طور پر اپنا کام کر رہے ہیں، حکومت اور اپوزیشن میں پاکستان کے مفادات پر اتفاق رائے اور یکسانیت ہونی چاہیے، وزیراعظم عمران خان کو ہر ادارے کی بنیاد سے ایک عمارت کھڑی کرنا  پڑ رہی ہے، ہم اپنے اداروں کو مضبوط بنائیں گے، وزارت اطلاعات و نشریات کو دنیا میں پاکستان کے بیانیہ کے فروغ کے قابل بنائیں گے، ماضی میں وزارت اطلاعات کے ماتحت اداروں میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں سے ان کو تباہ کیا گیا، پی ٹی وی، اے پی پی اور ریڈیو پاکستان کو اگست تک جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، ہم نے پی ٹی وی کو حکمران جماعت کی بجائے ریاست کا ترجمان بنایا ہے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے وزارت اطلاعات و نشریات کی کٹوتی کی تحریکوں پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ وہ اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے   بحث کے دوران  اہم اموراٹھائے۔ وزیر اطلاعات  نے کہا کہ ایکسٹرنل پبلیسٹی ونگ کی بات کی گئی، یہ درست ہے کہ ونگ کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی، میں نے اس ونگ سے دریافت کیا کہ کیا مغرب میں ہمارے بیانیہ کے حوالے سے کوئی کتاب لکھی گئی، عالمی سطح پر کوئی ایسی فلم بنائی گئی جس میں ہمارا نکتہ نظر واضح ہو، اس کا جواب نفی میں تھا۔ اس کے علاوہ عالمی اخبارات اور انٹرنیشنل میڈیا پر پاکستان کے بیانیہ کی تشہیر کے حوالے سے بھی بیان نفی میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کا سالانہ بجٹ ساڑھے چار کروڑ روپے جبکہ اس کے مقابلے میں ہندوستان کا بجٹ 21ارب روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں جو انفولیب پکڑی گئی وہاں 845 سے زائد جعلی ویب سائٹس پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈہ کر رہی تھیں۔ عالمی میڈیا کو پاکستان کے بارے میں جھوٹی خبریں دی جارہی تھیں۔ کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد پر سوال اٹھائے جارہے تھے، بلوچستان میں سب نیشنل ازم کو فروغ دیا جارہا تھا۔ اس کے علاوہ تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے دوران الہ آباد سے 3 لاکھ ٹویٹ کئے گئے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے خلاف کس قسم کی جنگ لڑی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ موجودہ دور ” وار آف اوپنین ” ہے۔ یہ اصل جنگ ہے اور یہ پاکستان کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ ہم یہاں تک کیوں پہنچے، پچھلی حکومتوں نے مسلسل وزارت اطلاعات و نشریات کے اداروں میں اپنے  کارکنوں  کو بھرتی کیا، صرف پی ٹی وی کے اندر 2200 ملازمین دس سالوں میں بھرتی کئے گئے، انہیں پہلے ڈیلی ویجز پر بھرتی کیا گیا جبکہ بعد ازاں ایک کمیٹی بنا کر انہیں مستقل کردیا گیا۔ ان کی تنخواہوں کا بجٹ 32 کروڑ روپے ہے، ان بھرتی کئے گئے افراد میں 5 فیصد بھی کام کرنے والے نہیں، اس طرح پی ٹی وی کا بھٹہ بٹھایا گیا اور اسی طرح ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کا ادارہ بھی پورا بیٹھ گیا انہوں نے کہا کہ ہمارے لئےبھی  یہ آسان ہے کہ ہم اپنے حلقوں کے ایک ایک پولنگ سٹیشن سے دس دس لوگ ان اداروں میں بھرتی کریں اور پھر الیکشن جیت جائیں۔ ریلوے اور سٹیل ملز کا بیڑہ غرق کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو ہر ادارے کی بنیاد سے اس کی نئی عمارت کھڑی کرنا  پڑ رہی ہے۔ ہمیں یہ تباہ حال ادارے ورثہ میں ملے۔ ہم نے اپنے ان اداروں  کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ کے شکرگزار ہیں کہ اس ضمن میں انہوں نے معاونت کی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں پی ٹی وی کو حکمران جماعت کا ترجمان بنایا گیا تھا لیکن ہم اس کو ریاست کے ترجمان کے طور پر آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہم اداروں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگست کے پہلے ہفتے میں پاکستان ٹیلی ویژن کو مکمل ایچ ڈی کر دیا جائے گا۔ اس طرح پہلی بار لوگ اسے ایچ ڈی پر دیکھ سکیں گے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کو ایف پی اور رائٹرز کی طرز پر ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورک بنائیں گے۔ اسے اگست تک عالمی معیار پر لانے کے لئے اقدامات شروع کردیئے جائیں گے۔ ریڈیو پاکستان کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں۔ نئی پروگرامنگ کا آغاز اگست میں ہو جائے گا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہاں پر صحافیوں کے تحفظ کی بات کی گئی، اس بنیاد پر مسلسل عالمی پروپیگنڈا کو سہارا دیا جارہا ہے۔ کچھ عناصر اس پروپیگنڈے کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں پر  سب سے زیادہ حملے  پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں  ہوئے۔ اس دور میں کل 39 حملوں میں 32 صحافی اپنی جانوں سے گئے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں 18 حملوں میں 14 صحافی جان سے گئے جبکہ ہمارے دور میں آٹھ حملے ہوئے جس میں 2 کے علاوہ تمام حملوں کی تفتیش کی گئی اور مجرم پکڑے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جو دو واقعات کے مجرم نہیں پکڑے گئے وہ حملے نوشہرہ فیروز اور سکھر میں ہوئے جہاں پر عزیز اور اجے للوانی قتل ہوئے۔ یہ سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بتائے کہ ان کے قاتل کون ہیں۔ عالمی میڈیا اس بارے میں ہم سے پوچھتا ہے تو ہم سندھ حکومت کی کارکردگی کے بارے میں شرمندہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کے آرڈیننس کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے پوری مہم چلائی، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ آرڈیننس کے حوالے سے خبر جعلی تھی، کوئی ایسا آرڈیننس جاری ہی نہیں ہوا۔ اس وقت مسلم لیگ (ن)  کی ترجمان کو پی ٹی آئی حکومت سے معافی مانگنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں تین چار جگہوں سے ایسی جعلی خبروں پر مشتمل ٹویٹس بنائے جاتے ہیں جنہیں افغانستان سے ابھارا جاتا ہے اور یہاں ہمارے بہت سارے نادان دوست جانے انجانے میں ان ٹویٹس کو آگے پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک دوست یہاں کہہ رہے تھے کہ پی ٹی ایم کے بیانیہ کے اوپر بات نہیں ہوتی، انہیں یہاں کے میڈیا کی کیا ضرورت ہے جب پورا عالمی میڈیا ان کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاتون پروفیسر جو یہاں سے گئی ہوئی ہیں، لندن میں پاکستانی سفارتخانے کے باہر مظاہرے کرتی ہے، اس کے ساتھ اس کا خیبرپختونخوا سے کوئی تعلق نہیں، خیبرپختونخوا کی روایت کے امین وہاں کے لوگ ہمارے ساتھ اس ایوان میں موجود ہیں۔ خیبرپختونخوا کے دل جن کے ساتھ دھڑکتے ہیں وہ تو ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے مظاہرے میں خیبرپختونخوا سے لوگ شرکت نہیں کرتے۔ لندن کے میڈیا میں ان کے رائٹس اپ اور تقریروں کو جگہ دی جاتی ہے، آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ مفت میں ہوتی ہے، افغانستان سے پاکستان کے خلاف جو تحریک چلائی جارہی ہے وہ مفت میں ہوتی ہے یا امریکا  کے اخبارات میں جب پاکستان کے کچھ لوگوں کے پاکستان میں اظہار رائے پر مضمون چھپتے ہیں تو کیا یہ مفت میں چھپتے ہیں؟ نہیں بلکہ ہر لفظ کی قیمت ادا کی جاتی ہے اور یہ قیمت کون دیتا ہے یہ ہمیں بھی پتہ ہے اور آپ کو بھی پتہ ہے۔ اس لئے ہمیں آزادی اظہار رائے کے بھاشن نہ دیں۔ پاکستان میں اس وقت 250 سے زیادہ ہمارے اپنے چینل اور 43سے زیادہ عالمی چینلز ہیں۔ یہ تمام آزادانہ طور پر یہاں کام کر رہے ہیں۔ ہمارے  ہاں حکومت کے اندر اور اپوزیشن کے اندر پاکستان کے مفاد سے جڑے معاملات پر یکسانیت  اور اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات کے لئے عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے اپنے دشمنوں کے ہاتھوں میں نہیں کھیلنا چاہیے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ جو برائی کا گٹھ جوڑ بنا ہوا ہے مجھے بتایا جائے کہ جو امر صالح بات کر رہا ہے اور ہمارے جو دوست یہاں پر بات کر رہے ہیں، اس میں کیا فرق ہے، کیا ہمیں شرم نہیں آنی چاہیے کہ ہم ان کی باتوں کو یہاں دہراتے ہیں، اس طرح ہم پاکستان کی خدمت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ   عمران خان کی قیادت میں پاکستان کو آگے لے کر جائیں گے اور وزارت اطلاعات کوایسا بنائیں گے جو  پاکستان کا بیانیہ آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کے بل کی بات ہوئی ہے، ہم پاکستان کے صحافیوں کو وہ سہولتیں دینا چاہتے ہیں جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، ہم نے اپنے صحافیوں کو کامیاب جوان  پروگرام کا حصہ بنایا ہے، ہم  انہیں وزیراعظم کے ہائوسنگ منصوبے کا حصہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمت کرے اور بلاول بھٹو سے کہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ  کا  بل جو انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں پڑا ہوا ہے، اس کو کیوں لے کے وہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی سمبلی مریم اورنگزیب نے کہا کہ 121 پروڈیوسر  کام کرتے ہیں، ایک سال میں ایک بھی پروڈکشن نہیں کی۔ پی ٹی وی کے لئے پاکستان فلم و کلچر پالیسی کے لئے فنڈز نہیں رکھے گئے، پاکستان اگر اپنی اصل پاکستانیت کی روح کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے اس مد میں فنڈز رکھنے ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری ، رومینہ خورشید عالم، عبدالاکبر چترالی، ناز بلوچ، شاہدہ اختر علی، آغا رفیع اللہ اور محسن داوڑ نے کٹوتی کی تحریکوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزارت اطلاعات اور اس کے ماتحت اداروں کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں