ایف بی آر نے گیارہ ماہ میں 4170ارب کا ریکارڈ ٹیکس اکھٹا کیا ،ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں میں 11.4فیصد ا ضا فہ،2.5ارب کی سمگل شدہ اشیئا ضبط کیں،ٹیکس تفصیلات جاری

اسلام آباد (نمائندہ نیوزٹویو)فیڈرل بور ڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کے پہلے گیارہ  ماہ میں حاصل کردہ محصولات کی ابتدائی تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے مطابق ایف بی آر نے جولائی تا مئی 4170  ارب روپے کا نیٹ رینیو حاصل کیا ہے جو کہ اس عرصہ کے مقر ر کردہ ہدف3994  ارب روپے سے176 ارب زائد ہے۔ اس طرح پچھلے سال اس عرصہ کے حاصل کردہ نیٹ ریونیو3549ارب روپے کے مقابلے میں18فیصد اضافہ حاصل ہوا ہےایف بی آر نے ماہ مئی کے اعدادو شمار بھی جاری کر دیئے ہیں ۔ ماہ مئی میں ریونیو نیٹ کولیکشن386 ارب روپے رہا جبکہ مطلوبہ اضافہ 214 ارب روپے تھا۔ اس طرح مقرر کردہ ہدف کے مقابلے میں168فیصد اضافہ حاصل ہو اہے اور پچھلے سال مئی کے حاصل کردہ نیٹ ریوینی229ارب روپے کے مقابلے میں69 فیصد اضافہ حاصل ہوا۔ پچھلے سال کے مقابلے میں مئی کے ماہ میں  69 فیصد اضافہ تاریخی ہے جو کہ اپریل میں حاصل کردہ 57 فیصد اضافہ سے بھی زائد ہے۔ ماہ   مئی کے آخری دن کے اختتام تک اور بک ایڈجسٹمنٹ کی مد میں حاصل ہونے والی وصولیوں کے بعدمحصولات کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔رواں مالی سال کے پہلے گیارہ  ماہ میں گراس ریونیو پچھلے سال کے3674 ارب روپے کے مقابلے میں4386 ارب روپے رہا اور19.4  فیصد اضافہ حاصل ہوا۔رواں مالی سال اب تک  216ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے جا چکے ہیں جو کہ پچھلے سال اس عرصہ میں125ارب روپے تھے۔ اس سال اب تک ریفنڈز کے اجراء میں  42.3فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے ۔ ریفنڈز کی تیز تر ادائیگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایف بی آر مختلف صنعتوں کو درپیش لیکویڈیٹی مسائل کو حل کرنے میں کوشاں ہے۔

 ریونیو حصول میں بہترین کارکردگی ملکی معاشی سرگرمیوں میں تیزی کی نشاندہی کر تی ہے حالانکہ کووڈ 19 کی تیسری لہر کا بھی سامنا ہے۔ عید کی چھٹیوں کے دوران ریونیو کولیکشن بہت حد تک  سست رہاایف بی آر ٹیکس نیٹ میں اضافہ کے لئے بھر پور کوششیں کر رہا ہے ۔ ان کوششوں کے باعث مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔ 31 مئی 2021 تک ٹیکس سال 2020 کے لئے انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد29لاکھ31 ہزار ہو چکی ہےجو کہ پچھلے سال اس عرصہ  تک26  لاکھ 31 ہزار تھی اس طرح ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد میں  11.4فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔ ٹیکس گوشوارں کے ساتھ ادا شدہ ٹیکس 52ارب روپے رہا جو کہ پچھلے سال اس عرصہ میں 34ارب روپے تھا۔ اس طرح اس سال ٹیکس ادائیگی میں55  فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔ایف بی آر نے پوائینٹ آف سیل سسٹم کے ساتھ منسلک ہونے والے بڑے ریٹیلرز کی تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں جس کے مطابق 10767سیل مشینیں پوائینٹ آف سیل سسٹم کے ساتھ منسلک کی جا چکی ہیں۔پاکستان کسٹمز نے رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں 672 ارب روپے کی کسٹمز ڈیوٹی حاصل کی جبکہ مقرر کردہ ہدف 565 ارب روپے تھا۔ اس طرح ہدف سے 107 ارب روپے اور 19 فیصد زائد حاصل کئے۔ رواں مالی سال مئی کے ماہ میں 64ارب روپے کی کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی جبکہ مقرر کردہ ہدف 57 ارب روپے تھا۔ اس طرح 12 فیصد زائد کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال 107 ارب روپے زائد کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی جو کہ 19 فیصد زائد ہے حالانکہ کرونا کے باعث معاشی سست روی بھی جاری ہے۔

رواں مالی سال مئی کے ماہ میں 2.6 ارب روپے کی سمگل شدہ اشیاء ضبط کی گئی جبکہ پچھلے سال مئی میں 1.5 ارب روپے کی اشیاء ضبط ہوئی تھی۔اس طرح ضبط شدہ اشیاء میں 74 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں 52.5 ارب روپے کی سمگل شدہ اشیاء ضبط کی گئی جو کہ پچھلے سال 40.8 ارب روپے کی تھی اس طرح ضبطگی میں29 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز کی طرف سے لئے گئے موثر انفورسمنٹ اقدامات  کے باعث رواں مالی سال 175 ارب روپے کا اضافی ریوینیو حاصل ہوا ہے۔175 ارب روپے کے اضافی ریونیو میں ان لینڈ ریونیو نے تقریبا”100 ارب روپے حاصل کئے ہیں۔ ان انفورسمنٹ اقدامات میں بقایا جات کے علاوہ حاصل ہونے والی ریکوری، موثر آڈٹ، سلز ٹیکس کی بہترین مانیٹرنگ، پی او ایس کے ساتھ منسلک ریٹیلرز، ٹیکس نیٹ کا پھیلاؤ اور ودہولڈنگ ٹیکسز کی موثر مانیٹرنگ شامل ہے۔ اسی طرح پاکستان کسٹمز کی طرف سے بھی موثر انفورسمنٹ  اور انتظامی اقدامات کے باعث رواں مالی سال 75 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوا ہے۔ ان اقدامات میں چائے، ٹائرز ، ٹیکسٹائل، الیکٹرونکس ، پام آئل اور پٹرولیم مصنوعات  کے خلاف اینٹی سمگلنگ آپریشنز  شامل ہیں۔ کسٹمز کی طرف سے لئے گئے انتظامی اقدامات میں اشیاء کی نیلامی، انڈرانوائیسنگ کے خلاف کاروائی، کورٹ کیسز کا تصفیہ، بقایا جات کی ادائیگی، ڈربز سسٹم اور آڈٹ شامل ہیں۔رواں مالی سال جولائی تا مئی جن ٹاپ سیکٹرز سے ریونیو حاصل ہوا ہے ان میں آٹو سیکٹر سے 108 ارب روپے حاصل ہوا جبکہ پچھلے سال 72 ارب روپے حاصل ہوا تھا اس طرح 51 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بینکوں سے 117 ارب روپے حاصل ہوا ہے جو کہ پچھلے سال کے 87 ارب روپے کے مقابلے میں 34 فیصد زائد ہے۔ سیمنٹ سیکٹر سے 127 ارب روپے حاصل ہوا جو کہ پچھلے سال کے 97 ارب روپے کے مقابلے میں 31 فیصد زائد ہے۔ پی او ایل  سے 577 ارب روپے حاصل ہوئے ہیں جو کہ پچھلے سال کے 516 ارب روپے کے مقابلے میں 12 فیصد زائد ہے۔ تمباکو سیکٹر سے رواں سال 129 ارب روپے حاصل ہوئے جو کے پچھلے سال 104 ارب روپے تھا اس طرح 24 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے۔ چینی سیکٹر سے 53 ارب روپے ریونیو حاصل ہوا ہے جو کے پچھلے سال 31 ار ب روپے تھا اس طرح 74 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے رواں مالی سال کسٹمز ڈیوٹی کولیکشن  کے ٹاپ آئیٹمز میں سے  گاڑیوں سے 98 ارب روپے  حاصل ہوئی جو کہ پچھلے سال 52 ارب روپے تھی اس طرح 86 فیصد اضافہ حاصل ہوا۔ آئرن اور سٹیل سے رواں مالی سال اب تک 53 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی جو کہ پچھلے سال 42 ارب روپے تھی اس طرح 24 فیصد اضافہ حاصل ہوا۔ مشینری اور مکینیکل اپلائنسز سے رواں سال 38 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی جو کہ پچھلے سال 30 ار ب روپے تھی اس طرح 26 فیصد اضافہ حاصل ہوا۔ڈائیریکٹوریٹ جنرل انٹیلیجنس اینڈ انوسٹی گیشن آئی آر نے رواں مالی سال جولائی تا مئی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ڈایریکٹوریٹ جنرل نے 1491 تفتیشی رپورٹس اور ریڈ الرٹس ایف بی آر کے ذیلی دفاتر کو بھیجی ہیں جو کہ 228 ارب روپے کے ریونیو سے متعلق ہے۔ اکتوبر 2018 سے مئی 2021 تک ڈایریکٹوریٹ جنرل نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت 146 شکایات درج کی جو کہ 52 ارب روپے کے ریونیو سے متعلق ہے۔ ڈائیریکٹوریٹ جنرل نے سگریٹ کے 7527 کارٹنز ضبط کئے ہیں جن میں 7 کروڑ 52 لاکھ سے زائد سگریٹ تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں