بحریہ ٹاون مساج سنٹر پرچھا پہ،ایک سرکاری افسر،خواتین سمیت 5افراد گرفتار

اسلام آباد (نمائندہ نیوزٹو یو)وفاقی پولیس نے بحریہ ٹاؤن سوک سنٹر میں واقع مساج سنٹر پر چھاپہ مارتے ہوئے ایک سرکاری افسر اور خواتین سمیت 5 افراد کو گرفتار کر لیا ۔ اس موقع پر مساج سنٹر سے پکڑے گئے ایک شخص کی پولیس آفیسر سے ہونے والی گفتگو کی ویڈیو بھی سامنے آئی ، ویڈیو میں واضح طور پر سنا جاسکتا ہے۔ کہ وہ اپنا تعارف پارلمینٹ ہاؤس کے سرکاری آفیسر کے طور پر کراتے ہوئے کہتا ہے کہ میں پرویز خٹک کے ساتھ ہوتا ہوں۔ جس پر چھاپہ مار ٹیم میں شامل ایک آفیسر نے انہیں کہاکہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ ہم پرویز خٹک کو یہ بتائیں کہ آپ کا ملازم برہنہ حالت میں خواتین کے ساتھ پکڑا گیا ہے؟ بعدازاں موقع سے پکڑے گئے تمام مرد و خواتین کو پولیس وین میں تھانے منتقل کر دیا گیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن سمیت اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں مساج سنٹرز کی آڑ میں عصمت فروشی کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ عصمت دری کی ان دوکانوں کی سرپرستی مبینہ طور پر پولیس و انتظامیہ کے کرپٹ اہلکار کر رہے ہیں ۔جو ان سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں ۔ ان کرپٹ عناصر کے خلاف آج تک کارروائی نہ ہوسکی۔ گرفتار کئے گئے سٹاف میں عون اور عامر جبکہ لڑکیوں میں عائشہ اور ماہم شامل ہیں۔ چھاپہ مار ٹیم کے ساتھ لیڈیز پولیس بھی نہیں تھیں۔ ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ چھاپہ اسپیشل مجسٹریٹ کے اختیارات پانے والے ایکسائز آفس کے آفیسر علی پیرزادہ کی سربراہی میں مارا گیا تھا جنہیں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے صرف کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے اور پرائس چیکنگ کے اضافی اختیارات سونپے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مساج سنٹر سے گرفتار ہونے والی عائشہ نامی لڑکی کو اسی رات تھانے سے چھڑوا لیا گیا تھا جبکہ باقی گرفتار افراد کو اگلے روز مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں