حکومت نےفوڈآئٹمزسمیت متعدد اشیا پر لگائےٹیکسزواپس لینے کا اعلان کر دیا

اسلام آباد(نمائندہ نیوزٹویو)وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کے جی پی فنڈ پر لگایا گیا10 فیصد ٹیکس اوران کےمیڈیکل بلز، ڈیری مصنوعات اور نابینا افراد کے لیے خصوصی موبائل،انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس پر بھی تجویز کردہ ٹیکس واپس لے لیا گیا ہےقومی اسمبلی اور سینٹ ا جلاسوں میں بجٹ بحث سمیٹتے ہو ئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ہم رواں سال ریونیو کا ہدف مکمل کریں گے ہمارے پاس ڈیڑھ کروڑ ٹیکس نادہندگان کا ڈیٹا آگیا ہےجو لوگ ٹیکس نہیں دیتے ہیں انہیں ٹیکس نیٹ میں لائیں گے یکس نادہندگان سے ٹیکس جمع کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں ٹیکس نادہندگان کے خلاف تھرڈ پارٹی کی مدد لیں گےاس معاملے میں ایف بی آر کو نہیں بھیجیں گےدنیا بھر میں ٹیکس نادہندگان کی گرفتاری کی مثالیں ملتی ہیںٹیکس نادہندگان کی گرفتاری بھی ہوسکتی ہے ایف بی آر کی ہراسگی سب کا مسئلہ ہےاس کی وجہ سے ٹیکس پیئر ریٹرنز فائل نہیں کرتا بجٹ میں 12 ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کیے جارہے ہیں۔ دودھ، دہی اور ڈیری کی مصنوعات پر اب کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گاایک ہزارسی سی تک گاڑیوں پرٹیکس کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ موبائل فونز پر موجودہ ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح ساڑھے بارہ فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کی جائے گی۔ موبائل سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس 8 فیصد تک بتدریج کم کیا جائے گا۔فوڈ آئٹمز پرٹیکس واپس لےلیےگئے ہیں۔ آٹے اور منسلک آئٹمز پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔انڈوں پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ پولٹری فیڈ پر ٹیکس 17 سے کم کرکے 10فیصد کردیا ہےسونے اور چاندی پر ٹیکس 17 سے کم کرکے 7اور3فیصد کیا گیا ہے اور موبائل فون پر 5منٹ سے زائد کال پر 75پیسے ٹیکس لگایا گیا ہے۔قبل ازیں بجٹ2021-22 میں تجویز دی گئی تھی کہ3 منٹ سے زیادہ کی موبائل کال پر ایک روپے ٹیکس لگایا جائے گا لیکن کابینہ نے اس کو مسترد کردیازرعی مشینری پر ٹیکس کم کر دیا گیا ہے۔پراپرٹی پرٹیکس کی شرح 35 سے20 فیصد کردی گئی ہے۔ زرعی اجناس کی فروخت کے لیے نیا نظام لایا جا رہا ہے۔زراعت کے لیے 3 لاکھ تک بلا سود قرض دیں گے۔ شہری علاقوں میں کاروبار کیلئے ایک فرد کو 5 لاکھ تک بلاسود قرض دیا جائے گا، 45 ارب کی مراعات انڈسٹری کو دے رہے ہیں رجسٹرڈ ای کمپنیوں پر صفر ٹیکس ہوگاجبکہ نان رجسٹرڈ پر دو فیصد ٹیکس لگے گا ٹیکسٹائل کی مد میں دی گئی مراعات جاری رکھیں گے میری گاڑی اسکیم متعارف کرائیں گے آئی ٹی سیکٹر کے تمام مطالبات مان لیے ہیں آئی ٹی 6 سے 8 بلین ڈالرز کی ایکسپورٹ کرے گی۔ ۔انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ 700 ارب روپے کا ٹیکس لگائیں تھا کہ 150 ارب روپے اِنکم ٹیکس پر لگائیں، میں آئی ایم ایف کے سامنے کھڑا ہو گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں