سپریم کورٹ میں کے پی کے حکومت کا سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن، ورلڈبینک اور آئی ایم ایف کے فنڈ سے ا دا کرنے کا انکشاف، یہ طریقہ خطرناک ہے، چیف جسٹس گلزار احمد

اسلام آباد(نمائندہ نیوز ٹویو) چیف جسٹس گلزا راحمد نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت سرکاری ا داروں میں لوگ بھرتی کرکےآئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرض لے کر ان کی تنخو اہیں ادا کررہی ہے یہ طریقہ خطرناک ہے انہوں نے کے پی کےحکومت کو سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے سپریم کورٹ میں محکمہ جنگلات خیبر پختونخوا کے ملازم فضل مختار کی پینشن ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل ا یڈووکیٹ جنر ل کے پی کےقاسم ودود نے یہ ا نکشا ف کیا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے ملنےوالے فنڈ سے ادا کی جا رہی ہیں کیس کی سماعت کی چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی عدالت نے فارسٹ گارڈ فضل مختار کی پینشن ادائیگی سے متعلق اپیل مسترد کر دی درخواست گزار کے وکیل حضرت سعیدنے بتایا کہ میں پروجیکٹ پر فارسٹ گارڈ بھرتی ہوا اور 1994 میں فارغ کیا گیا اور اسی وقت فریش اپوائمنٹ کی گئی اب پینشن کی ادائیگی کے دوران میری چار سالہ سروس کاونٹ نہیں کی گئی دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ قاسم ودود سے مکالمہ ہوا چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ خیبرپختونخواہ کے سرکاری ادارے تنخواہیں اور پینشن دینے کے قابل نہیں ہیں خیبر پختونخوا میں سرکاری اداروں میں لوگوں کو ملازمتوں پر لگا کر بھر دیا گیا ہےآپ کی حکومت آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضے لے رہی ہےیہ طریقہ خطرناک ہے کہ قرضہ لیکر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں کیا خیبرپختونخواہ میں سرکاری نوکری کے علاوہ روزگار کیلئے دوسرا کوئی زریعہ نہیں ہے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ قاسم ودود نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے صوبہ ڈائیریکٹ فنڈز نہیں لے سکتا ہےجسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیےخیبر پختونخواہ کی معیشت کو جو نقصان ہورہا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ اسمگلنگ ہے خیبر پختونخواہ میں انڈسٹری کو بڑھانے کیلئے اسمگلنگ روکنا ہوگا کے پی کے میں اسمگلنگ میں ملوث عناصر کو ختم کرنے کیلئے موثر اقدامات ضروری ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں