سپریم کورٹ نےوفاقی وصوبائی سیکرٹریزہا وسنگ سےسرکاری رہا ئش گاہوں کی غیر قا نونی الا ٹمنٹ اور قابضین سے متعلق رپورٹ طلب کر لی

 اسلام آباد (نما ئندہ نیوزٹویو)سپریم کورٹ نے وفاقی و صوبائی سیکرٹریز ہاوسنگ سے سرکاری رہائشگاہوں کی قواعد و ضوابط سے ہٹ کرا لا ٹمنٹ اور غیرقا نونی قابضین سے متعلق جامع رپورٹ طلب کرلی ہے عدا لت نے سی ڈی اے سمیت تمام متعلقہ حکام سے پو چھا ہے کہ بتایا جائے کتنے سرکاری مکانات پر غیر قانونی قبضہ ہےکتنے مکانات کی غیر قانونی الاٹمنٹ ہے کتنے سرکاری ملازمین نے ڈبل الاٹمنٹ کرا رکھی ہے سپریم کورٹ میں سرکاری رہائش گاہوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق از خود نوٹس اور درخواست گزار عبدالحنان کی سرکاری رہائشگاہوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے خلاف دائر کردہ درخواست کی چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی عدالت عظمیٰ نے ریٹائرڈ سرکاری ملازم عبدالحنان کی درخواست پر سی ڈی اے اورایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹسز جاری کر دیئے چیف جسٹس  نےتمام متعلقہ حکام کوخبردار کیا کہ عدالت کو غلط رپورٹ دینے پر ذمہ داران کو جیل بھیجیں گےچیف جسٹس نے استفسارکیا کہ وفاق نے کتنے سرکاری مکانات کا قبضہ واگزار کرایا ہے؟واگزار مکانات کا کیا گیا جس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا واگزار مکانات ویٹنگ لسٹ کے سرکاری افسران کو الاٹ کر دیے گئے ہیں درخواست گزار عبدالحنان نے عدالت کو بتا یا کہ ملازمین نے سرکاری پلاٹ پر مکان بنا کر کرائے پر دے رکھے ہیں ملازمین اپنے مکان کا کرایہ لے کر خود سرکاری مکان میں رہتے ہیں،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ سرکاری ملازمین نے ڈبل الاٹمنٹ کرا رکھی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت آفس عدالت کے سامنے درست بات نہیں کر رہی سرکاری ملازمین نے الاٹ مکان کرایہ پر دے رکھے ہیں سپریم کورٹ نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں