سپریم کورٹ کااین ایچ اے کو کرپٹ ادارے کا خطاب،شاہراہوں کی مرمت اور حادثات سے متعلق رپورٹ طلب

اسلام آباد(نمائندہ نیوزٹویو) سپریم کورٹ نے نیشنل ہا ئی ویزکوکرپٹ ا دارہ قرار دیتے ہو ئے این 25 ہائی وے کی خستہ حالی پر این ایچ اے کی رپورٹ مسترد کردی ہے ئےاورنیشنل ہائی وے اتھا رٹی سے شا ہرا ہوں کی مرمت اورحا دثا ت سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے این ایچ اے کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہو ئے ممبر پلا ننگ این ایچ اے سے دریا فت کیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ملنے والے فنڈز کہاں جاتے ہیں، این ایچ اے کسی روڈ پر معیاری کام نہیں کر رہا۔  این ایچ اے میں کرپشن کا بازار گرم ہے۔ این ایچ اے کی سڑکیں بارش کے پانی سے خراب ہو جاتی ہیں، ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کا خون این ایچ اے کے ہاتھوں پر ہےچیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ این ایچ اے ایک کرپٹ ادارہ بن چکا ہے ہائی وے کی زمینوں پر لیز کے پیٹرول پمپس، ہوٹل، دکانیں بن گئی ہیں، 2018 کی رپورٹ کے مطابق 12 ہزار 894 حادثات میں 5 ہزار 932 افراد جاں بحق ہوئے، آج کی خبر ہے رواں سال 36 ہزار افراد سڑک حادثات میں جان سے چلے گئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہائے ویز کے اطراف درخت تک نہیں۔ این ایچ اے میں ٹھیکدار مال بنانے پر لگے ہوئے ہیں۔ این ایچ اے کو اتنے پیسے ملتے ہیں لیکن کس کے جیب میں جاتے ہیں پتہ نہیں ممبر ایڈمن این ایچ اے نے بتایا کہ رواں سال کے آخر میں روڈز کی حالت بہتر ہو جائے گی۔ عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں