سپریم کورٹ کاگجراورنگی نالےپرآپریشن روکنےاورمعاوضہ دینے کی استدعا مسترد کردی اٰلہ دین پارک سے متصل شاپنگ سینٹراورپویلین کلب ختم کرنے کاحکم

کراچی (نمائندہ نیوز ٹویو)سپریم کورٹ نے گجر اور اورنگی نالے پر آپریشن روکنے اور متاثرین کو معاو ضہ دینے کی استدعا مسترد کرتے ہو ئے انتظامیہ کوآپریشن جا ری رکھنے اورکراچی کے آلہ دین واٹر پارک سے متصل شاپنگ سینٹر اور پویلین اینڈ کلب ختم کرنے کا حکم دے دیا ہےچیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ سندھ میں آیک اے ایس آئی بھی اتنا طاقتور ہے کہ وہ پورا سسٹم چلا سکتا ہے  سوموار کو سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزا ر احمد کی سربراہی میں نسلہ ٹاور کیس اورگجراور اورنگی نالےپر تجاوزات جیسےاہم کیسزکی سماعت ہوئی عدالت نےآلہ دین واٹر پارک سے متصل شاپنگ سینٹر اورپویلین اینڈ کلب کو غیرقانونی قرار دےکرحکم دیا کہ پویلین کلب اور شاپنگ سینٹر کو ختم کردیا جا ئےعدالت نے آلہ دین پارک کو اصل حالت میں بحال کرنے کا بھی حکم دیا۔ کمشنر کراچی سے دو دن میں عمل درآمد رپورٹ بھی طلب کرلی۔ عدالت نے کہا کہ آپ لوگوں نےسروس روڈپربلڈنگ تعمیرکردی؟جس پر وکیل بلڈر نے کہا کہ پل کی تعمیرکےوقت سڑک کاسائزکم کیاگیاتھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ شاہراہ فیصل کا سائز کبھی کم نہیں ہوا، شارع کو وسیع کرنے کیلئے تو فوجیوں نے بھی زمین دے دی تھی، آپ نےدونوں اطراف سےسڑک پرقبضہ کیا،پتہ نہیں کیاہورہا ہےمسلسل قبضے کےیجارہےہیں،کمشنرکی رپورٹ موجودہے،غیرقانونی تعمیرات شامل ہیں،دھنداشروع کیاہواہے،50 لوگوں کوبندکردیں؟ان لوگوں کو جیل بھیجنے سے مسئلہ حل ہوگا،سارے رفاعی پلاٹوں پر پلازے بن گئے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حکومت کہاں ہے؟ کون ذمہ داری لے گا؟ آپ کوکوئی پریشانی نہیں،جھوٹی رپورٹس پیش کردیتےہیں،آپ سمجھتے ہیں عدالت کو پتہ نہیں چلے گا ؟ کراچی کاسسٹم کینیڈا سےچلایا جارہا ہے،کراچی پر کینیڈا سے حکمرانی کی جارہی ہے ،یونس میمن سندھ کا اصل حکمران ہے۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ ایسی ہوتی ہے حکمرانی ؟؟؟ آپ کی حکومت ہے یہاں کس کی حکومت ہے ؟ آپ لوگ نالے صاف نہیں کرسکتے، صوبہ کیسے چلائیں گے ؟ دو سال ہوگئے آپ نالہ صاف نہیں کرسکے ، گورننس نام کی چیز نہیں ہے یہاں۔عدالت نے نسلہ ٹاور کے وکلاءسےکمشنرکراچی کی رپورٹ پر جواب طلب کرتےہوئے سماعت 16 جون تک ملتوی کردی۔  سپریم کورٹ میں گجر اور اورنگی نالہ سے متعلق کیس کی سماعت بھی ہوئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ زمین متاثرین کی نہیں نالے کی اراضی ہے۔ یہ لیز کیسے دی گئیں، زمین سرکاری ہے تو متاثرین کو ریلیف کیسے دیا جا سکتا ہے؟۔ یہ سب چائنہ کٹنگ کا معاملہ ہے، سب جعلی دستاویزات ہیں، لیز چیک ہوئیں تو سب فراڈ نکلے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے، سپریم کورٹ نے متاثرین کی معاوضے اور آپریشن روکنے کی درخواست مسترد کردی۔ نالوں پر حکم امتناع بھی ختم کردیئے۔ گجراور اورنگی نالوں کی چوڑائی پر کام شروع کرنے کا حکم بھی دے دیا۔عدالت نے تجاوزات سے متعلق کیس میں سندھ حکومت کےوکیل کی سخت سرزنش کی۔ کہا کہ تھرپارکر میں آج بھی لوگ پانی کی بوند کیلئے ترس رہے ہیں۔ ایک آر او پلانٹ نہیں لگا، پندرہ سو ملین روپے خرچ ہوگئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بدقسمتی ہے کہ کوئی لندن سے حکمرانی کرتا ہے، کوئی دبئی سے کوئی کینیڈا سے ایسا کسی اور صوبے میں نہیں ہے، سندھ حکومت کا خاصا ہے یہ۔ یہاں ایک اے ایس آئی بھی اتنا طاقتور ہوجاتا ہے پورا سسٹم چلا سکتا ہے۔چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر ایڈوکیٹ جنرل اپنی حکومت سے پوچھ کر بتائیں کیا چاہتے ہیں آپ ؟کسی نے کل کلپ بھیجا ہے؟، بوڑھی عورت کو وہیل بیورو پر اسپتال لے جایا جارہا تھا، جائیں اندرون سندھ میں خود دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ سب نظر آجائے گا چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پتا نہیں کہاں سے لوگ چلتے ہوئے آتے ہیں جھنڈے لہراتے ہوئے شہر میں داخل ہوتے کسی کو نظر نہیں آتے۔ کم از کم پندرہ بیس تھانوں کی حدود سے گزر کر آئے ہوں گے کسی کو نظر نہیں آیا۔ ابھی وہاں رکے ہیں کل یہاں بھی آجائیں گے۔یڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ کل بجٹ کی تقریر ہے دو دن کی مہلت دے دیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ بجٹ تو بچھلے سال بھی آیا تھا لوگوں کو کیا ملا؟، اتنے برسوں سے آپ کی حکومت ہے یہاں کیا ملا شہریوں کو؟، مخصوص لوگوں کیلئے رقم مختص کردیتے ہیں بس۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں