طالبان کا افغانستان کے155اضلاع پر قبضہ

 قندھار(نیوزٹویو)افغان طالبان نے افغانستان کے 155 اضلاع پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےکہا ہے کہ امریکا اور کابل انتظامیہ نے معاہدے کی خلاف ورزیاں کی ہیں،اس وقت طالبان کا افغانستان کے 88 فیصد علاقے پر کنٹرول ہےغیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے 2 ماہ میں 94 اضلاع کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے جب کہ 61 اضلاع پر پہلے سے طالبان کا کنٹرول تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز طالبان نے افغانستان کی تاجکستان کے ساتھ مرکزی سرحدی گزرگاہ پر قبضہ کرلیا ہے جب کہ اس کی حفاظت پہ مامور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار سرحد پار کر کے فرار ہو گئے ہیں خبر رساں ادارے کے مطابق قندوز شہر سے 50 کلو میٹر کے فاصلے پر افغانستان کے شمال میں شیر خان بندر پر قبضہ امریکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد سے طالبان کی سب سے بڑی کامیابی ہےافغان طالبان نے یہ کامیابی اس وقت حاصل کی ہے جب پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے واضح طور پر کہا ہے کہ طالبان کی کارروائیوں اور انہیں حاصل ہونے والے فوائد کے باعث افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کی رفتار سست کی جا سکتی ہے قندوز کی صوبائی کونسل کے رکن خالدین حکیمی نے عالمی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ آج صبح ڈیڑھ گھنٹہ لڑائی کے بعد طالبان نے شیر خان بندرگاہ اور تاجکستان کے ساتھ واقع قصبے اور تمام سرحدی چوکیوں پر قبضہ کرلیا ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق فوج کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ہمیں تمام چوکیاں چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور ہمارے کچھ فوجی سرحد عبور کر کے تاجکستان چلے گئے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ صبح تک سیکڑوں کی تعداد میں طالبان جنگجو ہر جگہ موجود تھےطالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ طالبان نے دریائے پاینج کے پار گزرگاہ پر قبضہ کر لیا ہےانہوں نے خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مجاہدین شیر خان بندر اور قندوز میں تاجکستان سے ملحقہ سرحدی گزر گاہوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر چکے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں