وزارت توانا ئی نےگیس بحران کا ملبہ سا بقہ حکومتوں پر ڈال دیا

اسلام آباد (نیوزٹویو) ترجمان وزارت توانائی نے گیس کی قلت کا ملبہ سابقہ حکومتوں پہ ڈالتے ہوئے کہا کہ 70 فیصد گیس سابقہ حکومتوں کے معاہدوں سے حاصل کی جا رہی ہے. منگل کو ترجمان وزارت توانائی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مارچ 2015میں پچھلی حکومت میں لگایا جانے ایف ایس آر یواستعمال شدہ لگایا گیا تھا اس کو 2009میں تیار کیا گیا تھا اور اسکی اورہالنگ کے بعد پاکستان میں لگایا گیا تھا۔ نئے ایف ایس آر یوکو 15سال میں 2دفعہ اورہال کی ضرورت ہوتی ہے مارچ 2021میں اینگرو کے ٹرمینل کیلیے جب ماہرین پاکستان آئے تھے اور انہوں نے اس ٹرمینل کےایف ایس آر یوکا معائینہ کیا تھا انہوں نے اس  کو پاکستان میں ناقابل مرمت قرار دیا تھا۔ اصل نقصان نئے ٹرمینل پر پرانا ایف ایس آر یو لگانے سے ہوا ہے  جسے سات یوم کیلیے بند کرنا پڑ رہا ہے ملک کی 70فیصد ایل این جی کی درآمدات پچھلی حکومت کے 15سالہ مہنگے معاھدوں کی مرہون منت ہے صرف 30فیصد گیس سپاٹ پر لی جاسکتی ہے جس کی قیمتیں انٹرنیشل مارکیٹ میں باقاعدگی کے ساتھ اوپر نیچے ہوتی ہیں۔ لہذا یہ کہنا کہ موجودہ حکومت مہنگی گیس خرید رہی ہے درست نہین ہے کیونکہ 70فیصد تو وہی گیس ہے جو الزام لگانے والوں کے لمبے عرصے کے معاھدوں کی بدولت آرہی ہے ان معاھدوں نے ملک کو مہنگی ایل این جی میں لمبے عرصے کیلیے جکڑ رہا ہے۔اگر کچھ پاور پلانٹس فرنس آئل اور ڈیزل پر چل رہے ہیں تو یہ اس سال تربیلا میں پانی کی شدید کمی کی وجہ سے ہے جس کی وجہ سے 3500میگاواٹ کی بجلی کی کمی کا سامنا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں