وفاقی کا بینہ نے بجٹ منظور کر لیا ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10فیصد ا ضا فہ، 1400ارب کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز

اسلام آباد (نمائندہ نیوز ٹویو) وفاقی کابینہ نے مالی سال 22-2021کے لیے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی ہے  بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائےگا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اورپنشن میں 10 فیصد اضافہ منظور کرلیا گیا ہے۔ نئے مالی سال میں 14سو ا رب روپے کے ٹیکس لگانے کی تجویز ہے جبکہ تعمیراتی شعبی کو دی جانے والی ا یمنسٹی سکیم میں توسیع دئیے جانے کی تجویز ہے ٹیکس آور جی ایس ٹی کی مد میں رعایت ختم کیے جانے کا امکان  ہے وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ پہنچنے پر کہا ہے کہ بجٹ سے سب خوش ہوں گےآئی ایم ایف کی جانب سے پنشنرز پر ٹیکس عائد کیے جانے کی تجو یز مسترد کر دی گئی ہے غریب عوام کے لیےبجلی پر سبسڈیز اور احساس پروگرام کے لیے رقوم میں ا ضافہ کیا گیا ہے جبکی زرعی قرضوں کی حد اور رقوم میں بڑھا دی گئیں ہیں  تین ہزار 50ارب روپے سے زائد خسارے کا  آٹھ 8 اعشاریہ 487 ٹریلین روپے کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا دفاع کی مد میں 1400 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے رواں مالی سال میں قرضوں اور سود کی مد میں 3 ہزار 60 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 829 ارب روپے، نان ٹیکس ریونیوکا ہدف 2 ہزار 80 ارب روپے مقرر کئے گئے ہیں، اسی طرح مجموعی ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 7 ہزار 909 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے این ایف سی کے تحت صوبوں کو 3 ہزار 412 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ وفاقی حکومت کے پاس اپنا بجٹ چلانے کیلئے صرف 4 ہزار 497 ارب روپے بچیں گے۔ وفاقی حکومت کے نئے مالی سال میں بجٹ خسارے کا تخمینہ 3 ہزار 990 ارب روپے رکھا گیا ہے، حکومت بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے نان بینکنگ سیکٹر سے ایک ہزار 241 ارب روپے کا قرض لے گی۔ وفاقی حکومت کے غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 7 ہزار 523 ارب روپے مقرر کئے گئے، ملکی و غیرملکی قرضوں پرسود کی ادائیگی پر 3 ہزار 60 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ سول اور ملٹری کی مجموعی پینشن کا حجم 480 ارب روپے ہوگا۔ دفاعی بجٹ کیلئے ایک ہزار 370 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں صوبوں کو ترقیاتی اور غیر ترقیاتی گرانٹس کیلئے ایک ہزار 168 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ بجلی، گیس، کھانے پینے کی اشیاء سمیت تمام شعبوں کیلئے سبسڈی کا بجٹ 682 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ سول حکومت کے اخراجات کیلئے 479 ارب روپے مختص کر دیئے گئےکورونا کی روک تھام اور دیگر ہنگامی اخراجات کیلئے 100 ارب روپے مختص کئے گئے۔ آئندہ بجٹ میں تنخواہوں اور دیگر مراعات کیلئے 160 ارب روپے رکھے گئے ہیں آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کیلئے 964 ارب روپے مختص کئے گئے۔ وفاقی سالانہ ترقیاتی پروگرام 900 ارب روپے، صوبوں کو قرض کی مد میں 64 ارب روپے ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں