پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایوان میں گالم گلوچ،مورچہ بند کتاب باری،خاتون سمیت5سکیورٹی اہلکارزخمی،منصوبہ بندی کابینہ اجلاس میں ہوئی

اسلام آباد(پارلیمانی ڈائری/اصغر چوہدری)قومی اسمبلی میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کا سخت احتجاج،اپوزیشن دفاعی حکمت عملی اپنانے پہ مجبور،صف اول کے وفاقی وزراء بھی احتجاج میں پیش پیش ،معاون خصوصی علی نواز اعوان نے لیگی رکن کو کتاب دے ماری ،گالیوں کا آزادانہ استعمال، ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی خان مفاہمت کے چکر میں متعدد بار اپوزیشن کی جانب سے کتابوں کی صورت میں کیجانی والی گولہ باری کا نشانہ بنتے بنتے رہ گے ،اسپیکر نے صورتحال بے قابو ہوتے دیکھ کے اجلاس ملتوی کر دیا ،حکومت و اپوزیشن کے اراکین نے بجٹ بکس کو گولہ باری کے لیئے استعمال کیا ،متعدد سیکیورٹی اہلکار زخمی ،دو ارکان اسمبلی بھی زخمی ہو گے ،پی ٹی ۤئی کی جانب سے فہیم خان کا جارحانہ انداز۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں پہلی بار پارلیمانی تاریخ میں حکومت اور اپوزیشن کی بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے درمیان دو بدو لڑائی ہوئی جس میں تحریک انصاف کے رکن فہیم خان اور وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور بھی معمولی زخمی ہوئے ،دونوں جماعتوں کے اراکین نے بجٹ کی بھاری بھرکم کتابوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے نئی پارلیمانی تاریخ رقم کی ہے ،اپوزیشن اور حکومت کی گولہ باری میں حفاظتی دیوار کا کردار ادا کرنے والی قومی اسمبلی کی سیکیورٹی سارجنٹ ایٹ آرمز کے پانچ سے زائد اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک خاتون اہلکار بھی شامل ہے جبکہ ایک اہلکار کی آنکھ شدید متاثر ہوئی ہے ۔ایوان میں اپوزیشن لیڈر کی تقریر شروع ہوتے ہی تحریک انصاف کے اراکین نے طے شدہ حکمت عملی کے مطابق اپؤزیشن لیڈر کی نشست کا گھیراو کیا اور نعرہ بازی ہوٹنگ کے ساتھ ساتھ وسل کا خصوصی بندوبست کیا گیا تھا ۔پارلیمانی پریس گیلری میں موجود سنیئر ساتھیوں کا خیال تھا کہ پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیئے نہیں آئے بلکہ باقاعدہ تیاری کے ساتھ کسی کرکٹ میچ کو دیکھنے آئے ہیں اس دوران وزیر اعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان اور لیگی رکن افتخار نزیر کے درمیان گالیوں کا تبادلہ ہوا اور علی اعوان نے انہیں کتاب کھینچ ماری ۔اپوزیشن لیڈر شدید احتجاج کے دوران اپنا خطاب جاری رکھے ہوئے تھے کہ اسپیکر نے نماز عصر کا وقفہ کر دیا قبل ازیں ایوان میں شور شرابے کی وجہ سے عصر کی آزان بھی سنائی نہیں دے رہی تھی تاہم پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع نے اسپیکر ڈائس کے پاس جا کے اسپیکر کی توجہ آزان کی جانب مبذول کروائی ۔نماز کے وقفے کے بعد اجلاس دوربارہ شروع ہوا تو حکومتی اراکین کا رویہ زیادہ جارحانہ تھا صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی دیکھ کے اسپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا جس کے ساتھ ہی مسلم لیگ ن اور حکومتی اراکین کے درمیان دوبدو لڑائی شروع ہو گئی جس پر سارجنٹ ایٹ ارمز نے دیوار بن کے انہیں ایک دوسرے سے الگ کیا جس کے بعد بجٹ کتابوں کو ہتھیار بناتے ہوئے دونوں اطراف کے اراکین نے ایکدوسرے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ،اسی اثناء میں اپوزیشن لیڈر کو بحفاظت ان کے چمبر تک پہنچا دیا گیا ۔جس کے بعد لڑائی میں شدت آ گئی ،کتابوں کی زد میں آ کے سارجنٹ ایٹ آرمز کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے جن میں ایک خاتون اہلکار بھی شامل ہے جبکہ ایک اہلکار کی آنکھ ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ۔پارلیمانی روایات میں پہلی بار حکومت کی جانب سے سخت احتجاج ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ پہلی بار پارلیمان میں دونوں اطراف کے ارکان ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہوئے اور اتنی بڑی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار بیچ بچاو کراتے زخمی ہوئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں