پاکستان میں جن مسائل کا سامنا ہے ہمیں اس پر بات ہی نہیں کرنے دی جاتی، علی نواز اعوان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر اعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے کہا ہے کہ ایک عام آدمی کو پاکستان میں جن مسائل کا سامنا ہے ہمیں اس پر بات ہی نہیں کرنے دی جاتی۔ جب بجٹ پیش ہو رہا تھا تو شوکت ترین صاحب کو بات نہیں کرنے دی گئی ۔ وزیر اعظم  نے جس دن حلف لیا ان کو تقریر نہیں کرنے دی گئی ۔ اسد عمر نے بجٹ پیش کیا تو ان کو بات نہیں کرنے دی گئی ۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ قومی اسمبلی کو مافیا کی طرح چلا سکتے ہیں تو ایسا نہیں ہے۔ اچھی طرح پیش آئیں تو ہم بھی اچھی طرح پیش آئیں گے ۔ گالی دیں گے تو جواب ملے گا ۔ ہاتھا پائی کریں گے تو جواب دیں گے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ فلورآف دا ہائوس کیلئے اپوزیشن نے بھی پوائنٹ آف ویویو دینا ہے بجٹ کے حوالے سے اور حکومت نے بھی۔ میں ایک حلقے کی نمائندگی کرتا ہوں اور میرا بھی اتنا ہی حق ہے ۔ جو بھی میں سمجھتا ہوں اپنے حلقے کی اچھائی یا برائی اس کو میں قومی اسمبلی میں ڈسکس کرنا چاہتا ہوں ۔ ہمیں یہ حق ہی نہیں دیا جا رہا ۔ جب بھی بات کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو بات ہی نہیں سنی جاتی ۔ بات شروع ہوتی ہے کیسز سے اور ختم ہوجاتی ہے کیسز پر۔ کیا پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ مافیا کیخلاف کیسز ہیں یا پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ غربت اور خارجہ پالیسی یا معاشی حالات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ اچھا سلوک کیا ۔ سپیکر صاحب سے جب فلور مانگا ان کو بات کرنے دی گئی ۔ مگر جب ہم جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ ہماری بات ہی نہیں سنتے ۔ شور مچانا شروع کر دیتے ہیں ۔ واک آئوٹ کر جاتے ہیں ۔ پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے ۔ کیا اس طرح کے روئیے سے پاکستان آگے جا رہا ہے یا پیچھے ۔ اگر ہم کوشش کر رہے ہیں کہ قانون سازی ہو تو عام آدمی کیلئے ہو ۔ اشرافیہ کیلئے قانون سازی تو ہو جاتی تھی ۔علی نواز اعوان نے کہا کہ جب نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تو تین دن میں وہ قانون سازی ہو گئی تھی ۔ جب امیر المومنین بننا چاہتے ہیں تو قانون سازی ہو جاتی ہے ۔ میرے دو بل پھنسے ہوئے ہیں ۔ فوڈ سیفٹی ایکٹ اسلام آباد ، رینٹ کنٹرول ایکٹ لانا چاہتا ہوں ۔ مگر بات ہی نہیں کرنے دے رہے۔ قانون سازی نہیں ہونے دے رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں