پنجاب کابجٹ پیش،سرکاری ملازمین کو 25فیصد خصؤصی الا ونس، تنخواہ اور پنشن میں 10فیصد اضا فہ،تعیلم کے لی442ارب ،صحت کے لیے370ارب مختص

لا ہور(نمائندہ نیوز ٹویو)  پنجاب حکومت نے مالی سال 2021-22کا 2653ارب روپے کامالی بجٹ پیش کر دیا ہے بجٹ میں کو ئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مجموعی طور پر 35فیصدبشمول پچیس 25فیصد خصوصی الا ونس جبکہ پنشن میں دس فیصد کا ا ضا فہ کیا گیا ہے حکومت نے عوام کو ریلیف دیتے ہوئے کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی محصولات کا ہدف 359 ارب روپے رکھا گیا ہے ترقیاتی پروگرام کیلئے 560 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ پنجاب کے 25فیصد سکولوں کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے سوموار کوصوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کا بجٹ ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہوگا۔ کورونا کے سامنے بڑے بڑے ممالک بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئے لیکن ہم نے وبا کے دوران غریب عوام کو ریلیف دیا۔ آج معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

ہاشم جواں بخت نے کہا کہ  شعبہ صحت کیلئے 370 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کیلئے 80 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں انہوں نے کہا  کہ لاہور میں 14 ارب روپے سے ایک ہزار بستر کے ہسپتال کی تعمیر شروع ہو گی۔ 14 شہروں میں ساڑھے 3 ارب کے جدید ٹراما سینٹر قائم کیے جائیں گے۔پنجاب اسمبلی میں صوبائی وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کا آغاز ہوتے ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج شروع کر دیا۔ وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت نے تقریر شروع کی تو اپوزیشن نے نعرہ بازی شروع کر دی اور بجٹ نامنظور کے نعرے لگائے جبکہ پلے کارڈ اٹھا کر احتجاج کیا تاہم ہاشم جواں بخت نے اپنی تقریر جاری رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کا مجموعی بجٹ 442 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ سیالکوٹ میں 17 ارب روپے کی لاگت سے انجینئرنگ یونیورسٹی قائم کی جا رہی ہے۔ پنجاب کے 25 فیصد سکولوں کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جبکہ صوبے میں آئندہ سال 7 نئی یونیورسٹیاں قائم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ 40 ہزار طلبہ کو فنی تربیت دی جائے گی صوبائی وزیر نے کہا کہ 36 اضلاع میں ترقیاتی سکیموں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کیلئے 28 ارب 30 کروڑ رکھے جا رہے ہیں۔ لاہور میں الیکٹرک بسوں کیلئے 60 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ لاہور شہر کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 28 ارب 30 کروڑ مختص کئے جا چکے ہیں جبکہ مختلف خدمات پر ٹیکس کی شرح کم کرکے 16 فیصد کی جا رہی ہےصوبائی بجٹ میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے پنجاب کی 16 تحصیلوں میں 86 ارب کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ ہاشم جواں بخت کا کہنا تھا کہ محکمہ زراعت کے شعبے کے لیے 31 ارب 50 کروڑ مختص کیے جا رہے ہیں۔ کسان کارڈ کے لیے 4 ارب اور امپورومنٹ آف واٹر کورسز کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ نہری نظام کی بہتری اور جدت کے لیے 55 ارب مختص کیے جا رہے ہیں وزیر خزانہ نے گریڈ 1 سے 19 تک کے ساڑھے 7 لاکھ ملازمین کے لیے 25 فیصد سپیشل الاؤنس جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کا اعلان بھی کیا۔ اس کے علاوہ کم سے کم اجرت 20 ہزار کی جا رہی ہے لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کے لیے 5 ارب روپے، جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ایک ارب روپے جبکہ معذور افراد کی معاونت کے لیے بجٹ میں 10 کروڑ روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں