پنجاب کا بجٹ ٹیکس فری ہو گا،پنجاب حکومت کادعویٰ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15سے20فیصدا ضافےکا امکان

لا ہور(نما ئندہ نیوزٹویو)پنجاب حکومت نے آئندہ بجٹ میں 6ارب کی ٹیکس رعایتیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ صوبا ئی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 سے 20فیصد ا ضا فے کا ا مکان ہے صحت کارڈ کے لیے 60ارب روپے رکھیں جا ئینگے پنجاب کاآئندہ مالی سال کا مجموعی بجٹ 2600ارب روپے سے زائد ہوگا پنجاب حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیکس فری بجٹ ہوگا سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 560 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔حکومت کے تعاون سے چلنے والے مختلف منصوبوں پر سبسڈی دی جائے گی۔ صوبائی محصولات کی مد میں 370ارب روپے ہدف مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ جنوبی پنجاب کےلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام بھی شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کے مشیروں اور وزراء کے اخراجات کےلئے اضافی فنڈز مختص ہوں گے۔صحت اورتعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں گزشتہ برس کی نسبت ڈیڑھ گنا اضافہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ہیلتھ انشورنس کارڈ کی فراہمی کےلئے 8ارب روپے رکھے جائیں گے۔ پنجاب کے 36اضلاع کے لئے 100ارب کے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔ انصاف سکول اپ گریڈیشن پروگرام کے تحت 8ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔ پنجاب کے متعدد اضلاع میں نئی یونیورسٹیز کھولنے کی تجویز ہےراجن پور، مظفر گڑھ، لیہ ، بھکر، جھنگ، چکوال کوہسار یونیورسٹی قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ سیالکوٹ،لیہ، راجن پور ،بہاولنگر میں مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ ہسپتال بنانےکی تجویز دی گئی، پنجاب بھر میں ٹراما سنٹرزقائم کئے جائیں گے فاطمہ جناح ڈینٹل یونیورسٹی لاہور کو 50 کروڑ روپے سے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ زراعت کے بجٹ میں اضافہ کر کے اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ کسانوں کو مکینیکل آلات دئیے جائیں گے، واٹر مینجمنٹ سسٹم کے تحت اقدامات بہتر کرنے کو ترجیح دی جائے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں