چئیرمین نیب کو حکومت کے کیس نظر نہیں آتے،ان میں شرم وحیا ہے تو میرا کیس ختم کریں،شاہد خاقان

اسلام آباد(نمائندہ نیوزٹویو)سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہےکہ چئیرمین نیب کو حکومت کے کیس نظر نہیں آتےان میں شرم وحیا ہے تو جعلی کیس ختم کریں منگل کو احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے نیب کی عدالت میں ہماری پیشی ہے ہمیشہ کی طرح آج بھی یہی دیمانڈ ہے عدالتوں میں کیمرے لگائیں، اڑھائی سال سے کیس چل رہا ہے ایل این جی ٹرمینل ملک میں لگا اس سے 48 ارب روپے کا نقصان ہو گا، حکومت کا خود بیان ہے 23 ارب کا نقصان ہو چکا 25 ارب روپے کا ہو گا،2105 سے ٹرمینل جاری ہے،سرکاری گواہ نے کہا کہ ٹرمینل سے ملک کا کوئی نقصان نہیں ہوا،امید ہے چئیرمین نیب کو رپورٹ جاتی ہو گی اگر ان میں شرم حیا ہے یہ جعلی کیس ختم کریں،حکومت کے کیس چئیرمین نیب کو نظر نہیں آتے،چینی سکینڈل میں ایف آئی اے گواہ نے اپنے ادارے کے خلاف بیان دیدیا، ایل این جی کیس میں تو حکومتی گواہ کہہ رہا ہے کوئی نقصان حکومت کا نہیں ہوا،اسی گواہ سے پوچھا گیا کرپشن کا الزام ہے اس نے جواب دیا کوئی کرپشن کا الزام نہیں ہے، سٹیٹ بینک نے جو رپورٹ دی ہے انہوں نے 32 صفحات پر ایل این جی سیکٹر کی سپیشل رپورٹ دی ہے،صرف تین سال میں بجلی کی مد میں اس ٹرمینل کیوجہ سے ملک 234 ارب روپے بچے ہیں،جس کا کیس ہم پر چل رہا ہے اس ٹرمینل نے 234 ارب روپے محفوظ کیے ہیں، چئیرمین نیب ابھی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے ہاتھ پاوں مار رہا ہے،عمران خان چئیرمین نیب کو ملازمت میں توسیع دیگا، جھوٹ کا یہ عالم ہے وفاقی وزیر جھوٹ بول کر چلے جاتے ہیں،اگر وفاقی وزیر کو بجٹ کا معلوم نہیں تھا تو پاس کیسے ہوا،بجٹ میں مہنگائی کم کرنے کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے ہیں، وزیر خزانہ یہ کہہ دیں کہ بجٹ سے مہنگائی کم ہو گی،12 سے 15 اہداف مہنگائی کے بنائے گئے ہیں،اعداد و شمار کا آزادانہ ادارہ ہوتا ہے اسکو خزانہ کے زیرسایہ کیا جا رہا ہے تاکہ جھوٹ کو چھپایا جائے،ہم نے گندم برآمد کی آج لوگ آٹا نہیں خرید سکتے،27 ملین ٹن کی پیداوار ہوئی ہے پھر بھی گندم خریدنی پڑے گی،شہباز شریف کی تین منٹ تقریر کی حکومتی بینچوں پر آگ لگ گئی،تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومتی وزراء نے ہلڑ بازی کی ہے،کل سپیکر خود ہلڑ بازی میں شامل ہو جائیگا کیونکہ ان میں شرم ختم ہو چکی ہے،تقریر ہم نے کرنی ہے سپیکر نے کہہ دہا عمران خان کو ڈونکی راجہ کہا گیا ہے،جھوٹ کا پلندہ کھولیں گے اور مہنگائی کی بات کرینگے،کھلم کھلا کہتا ہوں مہنگائی بڑھے گی یہ وہ وزیراعظم ہے جو اسمبلی نہیں آئیگا،اسمبلی میں ہم بات کرینگےسپیکر عمران خان کا نوکر ہے،پارلیمان کے تحفظ کی بات کرینگے مہنگائی کی بات کرینگے،چار سو ارب کے قریب اضافی ٹیکس ہے وزیر خزانہ خود کہہ رہے ہیں ٹیکس بڑھے گا، شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ‏امید ہے چیئرمین نیب کوعلم ہوگا کہ عدالتوں میں کیاہورہاہے،‏کیاچیئرمین نیب کو حکومتی کرپشن نظر نہیں آرہی،‏چیئرمین نیب ہمارے خلاف بےبنیاد کیسز ختم کردیں،انہوں نے کہاکہ کیامہنگائی کو قابو کرنے کے لیے ایک بھی قدم لیا گیا؟میں سننا چاہتا ہوں کہ وزیر خزانہ مہنگائی کو کم کرنے کے حوالے سے بولیں،پاکستان کے عوام مہنگائی کا سامنا کررہے ہیں،بجٹ کے اہداف بارہ سے چودہ فیصد مہنگائی کی بنیاد پر بنارہے ہیں، شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ سرکاری گواہ نے کہا کہ ٹرمینل سے ملک کا کوئی نقصان نہیں ہوا،امید ہے چئیرمین نیب کو رپورٹ جاتی ہو گی اگر ان میں شرم حیا ہے یہ جعلی کیس ختم کریں،چینی سکینڈل میں ایف آئی اے گواہ نے اپنے ادارے کے خلاف بیان دیدیا، ایل این جی کیس میں تو حکومتی گواہ کہہ رہا ہے کوئی نقصان حکومت کا نہیں ہوا،اسی گواہ سے پوچھا گیا کرپشن کا الزام ہے اس نے جواب دیا کوئی کرپشن کا الزام نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں