چیئرمین سیںٹ الیکشن چیلنج کیس, یوسف گیلا نی کےوکیل کےدلائل مکمل،اٹارنی جنرل اورعلی ظفرکی باری

اسلام آباد(نمائندہ نیوزٹو یو)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بنچ میں زیر سماعت سینیٹر یوسف رضا گیلانی کی جانب سے چیئرمین سینٹ الیکشن چیلنج کرنے سے متعلق سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل میں درخواست گزار وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل مکمل کرلیے۔گذشتہ روز سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، بیرسٹر علی ظفر، بیرسٹر سیف اور فاروق ایچ نائیک عدالت پیش ہوئے،یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ پریزائیڈنگ افسر کے آڈر کے خلاف عدالت حکم جاری کرسکتی ہے،سینٹ کا پہلا اجلاس ہی چیرمین سینٹ کی زیر صدارت ہوگا،مظفر حسین شاہ پریزائیڈنگ افسر تھا کیونکہ چیرمین سینٹ خود امیدوار تھے،قانون طور پر جس ہو زیادہ ووٹ ملے وہی چیرمین سینٹ منتخب ہوگا،مظفر حسین شاہ کی بطور پریزائیڈنگ افسر تعیناتی صدر پاکستان نے کی تھی،مظفر حسین شاہ کو سینٹ کے پہلے اجلاس کی صدارت کے لیے تعینات کیا گیا،پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے7ووٹ مسترد کرکے صادق سنجرانی کے چیرمین سینیٹ منتخب ہونے کااعلان کیا،چیئرمین سینیٹ ہی اجلاس کو رولنگ کرسکتا ہے، پریزائیڈنگ افسر نہیں،سپریم کورٹ کے فیصلے میں واضح ہے کہ سپیکر کے رولنگ کو چیلنج کیا جاسکتا ہے،سپیکر رولنگ کے خلاف جوڈیشل کمیشن بیٹھ سکتی ہے،دوران سماعت فاروق ایچ نائیک نےمختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا اور پریذائیڈنگ افسر کی الیکشن نتائج سے قبل دی جانے والی رقلنھ پڑھی، فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ مشہور کیس ہے جہاں سپیکر کی رولنگ کو چیلنج کیا گیا ڈھاکہ کی عدالت نے فیصلہ دیا،فاروق ایچ نائیک نے عدالتی فیصلہ اور پارلیمانی معاملے میں عدالتی تحمل کے خلاف برطانوی عدالت کے فیصلے کی کاپی پیش کی اور کہا کہ اپیل قابل سماعت ہے میرٹ پر سنی جائے، سنیٹر یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہونے پر بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دینے کے لئے وقت مانگ لیا،آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل اف پاکستان خالد جاوید خان دلائل دیں گے، فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ اٹارنی جنرل کو آرٹیکل 26 کے تحت نوٹس ہوا ہے مگر وہ فیڈریشن کو ریپریزینٹ نہیں کریں گے، عدالت نے کیس کی سماعت 10 جون تک کیلئے ملتوی کردی۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں