ڈنڈے سے ٹیکس نہیں لیا جاسکتا،عوام ماضی کے قصے نہیں مسائل کاحل چا ہتے ہیں،بلاول بھٹوزرداری

اسلام آباد (نیوزٹویو) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے اگر حکومت بجٹ پر ووٹنگ میں دھاندلی نہیں کرتی تو دنیا دیکھتی کہ وزیراعظم کے پاس 172 ووٹس بھی نہیں ہیں بجٹ سپیکر کی جانبداری کی و جہ سے پا س ہوا عوام ماضی کے قصے نہیں اپنے مسائل کا حل چا ہتے ڈنڈے سے ٹیکس نہیں لیا جا سکتا ہےعوام کو حکومت اورعمران خان پر اعتماد نہیں ہے پیپلزپارٹی اس بجٹ مسترد کرتی ہے، 172 ممبران پورا کرنے کیلئے حکومت کی دوڑیں سب نے دیکھیں، اگر دھاندلی نہ ہوتی تو مطلوبہ ووٹ پورے نہیں تھے، بجٹ اجلاس عوام کے لئے بے عزتی کا باعث بنا۔ قومی اسمبلی اجلاس سےپا کستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس اوربعدا زاں زرداری ہا وس میں پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں امیروں کو فائدہ دیا گیا ہے اور غریب کا نہیں سوچا گیا۔حکومت نے آئی ایم ایف کا بجٹ گنتی کے بغیر پاس کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام سننا چاہتے ہیں کہ مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ کیوں ہواانہوں ںے کہا کہ وزیراعظم صاحب! صرف لیکچر دینے سے کچھ نہیں ہوتا، یہ منافقت ہے۔ انہوں ںے الزام عائد کیا کہ حکومت نے پورے بجٹ سیشن میں عوام کی توہین کی ہے۔حکومت بات غریب کی بات کرتی ہے مگر اقدامات نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غریب کو مدد نہیں کر رہی ہے بلکہ انہیں تکلیف پہنچارہی ہے۔ قبل ازیں قومی اسمبلی کے ا جلاس سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس ہر پاکستانی کیلئے شرمندگی کا باعث بن چکا ہے ہر ممبر کا حق ہے کہ اپنا ووٹ ریکارڈ پر لے کر آئےآپ نے گزشتہ روز ہم سے ہمارا حق چھینا، کل بجٹ پراسیس کا اہم ترین دن تھا، کون جانتا تھا یہ بجٹ اجلاس معاشی تباہی کا بجٹ ہے، اسپیکرصاحب نے پورا موقع دیا حکومت اپنے 172 ممبران کی تعداد پوری کرسکے، فنانس بل کی حتمی منظوری پرووٹنگ نہیں کرائی گئی، بدقسمتی سے اپوزیشن ارکان کی تعداد بھی کم تھی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ عامر ڈوگر اور پارلیمانی سیکرٹری کی جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہوں، حکومتی اراکین اپنے لوگ ڈھونڈتے رہے، سپیکر سے لابی کو سیل کرنے کی گزارش کی جو نہیں مانی گئی، ہمارا حق ہے کہ ہماری ترمیم پڑھی اور سنی جائے، ہمارے ووٹ کے حق کا تحفظ نہیں ہوگا تو عام آدمی کے ووٹ کا کیا ہوگا، حکومت نے جو بجٹ دیا یہ معاشی تباہی کا بجٹ ہے، کچھ اپوزیشن ممبران کی تعداد میں بھی کمی تھی، ہماری گنتی کرنے کی بجائے اسپیکر صاحب آپ اٹھ کر چلے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں