ڈومیسٹک سیکٹر میں کہیں بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا کل افسوسناک بیانہ فیٹف پر سامنے آیا۔ فیٹف کا چہلنج فروری 2018 میں ملا جب ن لیگ کی حکومت تھی۔ میں ساری رپورٹس دیکھ چکا ہوں کن کن وزرائے خارجہ کی غلطیوں کی وجہ سے اتنا مشکل پروگرام ملا۔ آج فیٹف صدر پاکستان کی تعریفیں کر رہے ہیں۔ اپوزیشن اپنی سیاست کیلئے پاکستان کو سیاست میں نہ لائے۔  دو ایل این جیز کے ٹرمنلز کے ساتھ مسلم لیگ ن حکومت میں معاہدے ہوئے۔وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2016_17 میں 30 فیصد بجلی کی پیداوار فرنس آئل سے تھی۔ 2020_21 میں 4.4 فیصد بجلی فرنس آئل سے پیدا ہو رہی ہے، ڈرائی ڈاکنگ کے دوران کوشش ہے کم سے کم لوڈ شیڈنگ ہو ڈومیسٹک سیکٹر میں کہیں بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی ہے۔ ہماری حکومت پانی سے صاف بجلی کے منصوبوں پر فوکس کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اہل این جی ٹرمنلز 15 سال میں دو بار ڈرائے ڈاکنگ کرتے ہیں۔ اس دوران متبادل ذرائع سے بجلی کا انتظام کیا جا رہا ہے، تربیلا میں پانی کی کمی سے بجلی کی پیداوار کم ہے۔ تربیلا میں پانی پورا ہوتا تو ایل این جی ٹرمنلز کی ڈرائی ڈاکنگ سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ایک گیس فیلڈ کو ڈرائی ڈاکنگ سے پہلے شفٹ کر دیا گیا ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ مٹیاری سے لاہور کی ٹرانشمیشن لائن 21 فیصد پاور لوڈ برداشت کر سکتی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ 3 سال میں 4 ہزار میگاواٹ کی ٹرانسمیشن کپیسٹی ایڈ کی ہے۔ آئندہ سالوں میں 10 ہزار میگاواٹ کی ٹرانسمیشن کپیسٹی ایڈ کی جائے گی۔ ایل این جی ڈرائی ڈاکنگ کیلئے متبادل جہاز کا بندوبست کرنا ہوتا ہے۔ کار کے کا گزشتہ حکومت کا مسئلہ ہم نے ٹھیک کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی پیز کے سارے مہنگے معاہدوں کا مسئلہ کم نے ٹھیک کیا۔ فیٹف میں ملک کو چھوڑ کر گئے جسے ہم ٹھیک کر رہے ہیں۔ آر ایل این جی کے سودے میں کم نے گزشتہ حکومت کی نسبت اربوں روپے بچائے۔ اپوزیشن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اس لیئے طرح طرح کے حربے استعمال کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں