کوروناسے 2کروڑ افراد بے روزگار ہو ئے،بجٹ میں غریب اورتنخواہ دار پربوجھ نہیں ڈالیں گے،وصولیوں میں11فیصداضافہ،قرض میں700ارب کمی ہو ئی،شوکت ترین

اسلام آباد: (نمائندہ نیوز ٹو یو) وزیرخزا نہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ بجٹ 5.7 ٹریلین کا ہوگا کورونا کے باعث 2کروڑ لو گ بے روزگارہو ئے ہیں آئی ایم ایف سے کہہ دیا ہے کہ غریب اور تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گےامریکہ سے مالی ا مداد نہیں تجارت چا ہتے ہیں ایف بی آر سے کسی کو نو ٹس جا ری نہیں ہو گا اور نہ کو ئی ہراسمنٹ ہو گی تھرڈ پا رٹی آڈٹ اورخود تشخیص ہو گی گردشی قرضہ 2 سے ڈھائی سو ارب رہ گیا ہے۔حکومتی پالیسیوں کے باعث معیشت مستحکم ہوئی، بیشتر اہداف حاصل کرلئے، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں ایک بلین ڈالر سے زائد آچکے، گیس بجلی، تعمیراتی اور زرعی شعبے میں مراعات دیں، مہنگائی کو روکنے کی کرکوشش کر رہے ہی دنیا نے وزیراعظم کی کوویڈ پا لیسی کو سراہا پیشن گوئی نہیں کر سکتے کہ ایف اےٹی ایف کی گرے لسٹ سے وا ئٹ لسٹ میں آ جا ئیں گے  وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسلام آباد میں حکومتی اقتصادی ٹیم ڈا کٹڑ وقار احمد ،ڈا کٹر ثا نیہ نشتراورخسرو بختیار کے ہمراہ اقتصادی سروے جاری کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے 2 کروڑ افراد بے روزگار ہوگئے، بروقت اقدامات نہ کرتے تو کورونا کی تیسری لہر خطرناک ہوسکتی تھی عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں 58 فیصد اضافہ ہوا۔ پاکستان پر مجموعی قرض 38 ٹریلین ہو چکا ہے۔ مہنگائی روکنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ اس وقت پاور سیکٹر ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ایف بی آر نے 4 ہزار 200 ارب روپے کے ٹیکس جمع کیے ٹیکس وصولیاں گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد سے زیادہ ہیں جبکہ زرعی شعبے میں 2.7 فیصد ترقی ہوئی حکومت کی پالیسیوں کے باعث معیشت مستحکم ہوئی، تعمیراتی شعبے کیلئے وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے مراعات لیں شوکت ترین نے ترسیلات زر کو اللہ کی طرف سے فرشتہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملکی زرمبادلہ کے لیے بہت اہم تھیں ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا، امید ہے ابھی یہ 26ارب ڈالر ہیں مالی سال کے آخر تک ترسیلات زر 29 بلین ڈالر ہو جائیں گی، ترسیلات زر بڑھنا اوورسیز پاکستانیوں کا وزیراعظم پر اعتماد ہے، ترسیلات زر کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس چل رہا ہے، زرمبادلہ ذخائر 16 ارب ڈالر کیساتھ 4 سال کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ حکومت نے تعمیراتی اور زرعی شعبے کو مراعات دیں اور زرعی شعبے میں 2.7 فیصد ترقی ہوئی۔ لارج اسکیل مینو فیکچرنگ شعبے میں 9 فیصد ترقی ہوئی۔ روشن پاکستا ن اکاوَنٹ میں ایک ارب ڈالرسے زائد جمع ہوا۔ گردشی قرضہ 2 سے ڈھائی سو ارب رہ گیا ہے۔کروڈ آئل کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود عوام کو ریلیف دیا، قیمتیں کنٹرول کرنے کیلئےانتظامی انفراسٹرکچر ٹھیک کرنا پڑے گا، گزشتہ سال کے مقابلے میں غیر ملکی قرض 700 ارب روپے کم ہے، کامیاب جوان پروگرام سے 9 ہزار افراد مستفید ہوچکے، خسارے میں چلنے والے اداروں پر بڑے وسائل خرچ ہو رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے  کہا کہ ہم نے بجٹ 5.7 ٹریلین کا رکھا ہے، 1.7 ٹریلین قرض بڑھا ہے، پچھلے سال 3.7 ٹریلین قرضہ بڑھا جس سے اس سال آدھا ہے، شرح سود 13.2 سے کم کرکے 7 فیصد تک لائی گئی، ہم گروتھ کو 5، 6، 7 فیصد تک لے کر جائیں گے، ہم نوجوانوں کو روز گار دلانے کے لیے گروتھ لائیں گے، ہم 4 فیصد شرح نمو پر ہیں، 7 سے 8 فیصد شرح نمو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، پائیدار شرح نمو کے دیرپا استحکام کے لیے اقدامات کریں گے۔ آئی ٹی 50 فیصد گروتھ کررہی ہے، اس کو 100 فیصد پر لے جائیں گے، بھارت نے 10 سال میں آئی ٹی کو 100 گنا بڑھایا، کیا ہم آئی ٹی کو 50 فیصد مزید نہیں بڑھاسکتے؟ روایتی برآمدات کے علاؤہ بھی دیگر مصنوعات کی برآمدات بڑھائیں گے، ہمیں برآمدات اور براہ راست سرمایہ کاری بڑھانی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ ہم دیگر ذرا ئع سے ریونیوبڑھا ئیں گے آئی ایم ایف پا ئیدار گروتھ چا ہتا ہے ہم بھی یہی چا ہتے ہیں آئی ایم ایف سے کہا ہے کہ ٹیرف نہیں بڑھا سکتے اس کا اثر غریب آدمی پر پڑے گا آئی ایم ایف سے مذا کرات جا ری ہیں شوکت ترین نے کہا کہ چین 85 ملین ملازمتیں بیرون ملک منتقل کرے گا۔ کوشش ہے کہ چین کی ملازمتوں کی بیرون ملک منتقلی میں اپنے شیئرز لیں۔انہوں نے کہا کہ پی آئی ا ے ،ریلو ے اور بجلی کی تقسیم کارکمپنیاں خسارے کا باعث ہے۔ خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کے لیے ماہرین کا بورڈ بنائیں گے۔ 1991 سے نواز شریف بھی کہتے رہے کہ نجکاری کرنی ہے۔ جی ڈی پی میں بینکنگ سیکٹر کا حصہ 16 فیصد سے مزید بڑھاناہوگا۔ علاقائی ہاوَسنگ بینک بنائیں گے وفاقی وزیر خسرہ بختیار نے کہا کہ حکومت نے 3 سال کے دوران گندم کی قیمت میں 500 روپے اضافہ کیا، ن لیگ کے دور میں گندم کی قیمت میں صرف 100 روپے اضافہ ہوا، پیداوار بڑھانے کیلئے چھوٹے کسانوں کو نئی ٹیکنالوجی دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں