ہا ئیکورٹ حملہ کیس،عدالت کاوکلاءکے معطل لا ئسنسزکی بحالی کے حوالےسےقانونی نکات کا جا ئزہ لینے کا فیصلہ

اسلام آباد(نمائندہ نیوز ٹویو)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں لارجربنچ نےہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ حملہ کیس میں وکلاء کے خلاف مس کنڈکٹ کیس میں وکلاء کے تین ماہ سے معطل لائسنس بحال کرنے کی استدعا پرقانونی نکات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔گذشتہ روز سماعت کے دوران شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے کہاکہ لائسنس صرف 90 روز کیلئے معطل رہ سکتا ہے اور اتنا عرصہ گزر چکا ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے نہیں دیکھنا کہ کس نے مس کنڈکٹ کیا، یہ بار کونسل نے کرنا ہے،وکلاء جواب جمع کروا دیں تاکہ ریفرنس بار کونسل کو بھیجا جا سکے،شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے کہاکہ اس کمپلینٹ میں شکایت کنندہ کوئی اور ہے اس لئے یہ عدالت اسے بار کونسل کو نہیں بھیج سکتی،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت نے کارروائی شروع کی تھی اب اگر کمپلینٹ جائے گی تو وہ عدالت کی طرف سے ہو گی،جسٹس عامر داروق نے کہاکہ کچھ وکلاء نے جواب جمع نہیں کرائے تو کیا وہ شنوائی کا حق نہیں چاہتے،عدالت نے کہاکہ ہائیکورٹ سے جانے والی کمپلینٹ بار کونسل پر کسی طور اثرانداز نہیں ہو سکتی،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اثرانداز نہیں ہونا چاہتے،بصورت دیگر ہم یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ سب کچھ ہمارے سامنے ہوا،وکیل نے کہاکہ جن وکلاء کے لائسنس معطل ہوئے 90 دن گزر چکے انکو بحال کر دیا جائے،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ہم آپکے اٹھائے گئے قانونی نکتے کا جائزہ لیں گے،مشتاق چوہدری ایڈووکیٹ نے کہاکہ ہم تو سب کچھ گنوا چکے ہیں، چیمبر گرا دیے گئے وکلاء معافیاں بھی مانگتے پھر رہے ہیں،کافی ہو گیا اب معافی دیدیں یا ریفرنس بار کونسل کو بھیج دیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، سابق صدر ڈسٹرکٹ بار ریاست علی آذاد نے کہاکہ ڈسٹرکٹ کورٹ کی ایک تقریر کو مجھ سے منسوب کیا گیا ہے،اگر میری کوئی تقریر ہو یا میں وہاں موجود بھی ہوں تو میرا سر لے لیں، میں دو بار صدر، دو بار سیکرٹری رہا ہوں، اگر تقریر کی ہوتی تو تسلیم کرتا،خالد خان ایڈووکیٹ نے کہاکہ بار ایسوسی ایشن نے میرے اور شائستہ تبسم کے وقوعے میں شامل نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا ہے،عدالت نے مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ سماعت ملتوی کردی گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں