ہمالیہ کے دامن میں پہلی نایاب ترین اڑنے والی گلہری دریافت

آسٹریلوی سائنس دانوں نے ہمالیہ کے دامن میں دنیا کا نایاب ترین ممالیہ جانور دریافت کیا ہے۔ یہ ایک اڑن گلہری ہے جو ایک میٹر سے زیادہ لمبی ہوتی ہے اور اس کا وزن 2.5 کلو ہوتا ہے۔ اون رکھنے والی اس اڑتی گلہری کے عجائب گھر میں موجود نمونوں سے حاصل کردہ معلومات استعمال کرتے ہوئے اور اب تک کی گئی عملی مہمات کا ڈیٹا استعمال کر کے ان کی ٹیم نے تصدیق کی ہے کہ یہ بڑی اور روئیں دار گلہریاں تین علیحدہ مقامات پر مختلف اقسام کی آبادیاں بنا چکی ہیں، جن میں سے دو اقسام بالکل نئی ہیں۔ انہیں تبت کی اونی اڑن گلہری اور چینی صوبہ یونان کی اونی اڑن گلہری کے نام دیے گئے ہیں۔ نرم رواں رکھنے والی گلہریوں کی یہ نئی اقسام جینیاتی اور جسمانی اعتبار سے دوسری گلہریوں سے کافی مختلف ہیں۔ پھر یہ دنیا کی چھت پر رہتی ہیں یعنی ہمالیہ کے دامن اور تبت کی سطح مرتفع پر۔انہوں نے کہا کہ ایک میٹر لمبی ریشمی رواں رکھنے والی یہ گلہری دنیا میں سب سے بڑی ہے۔ یہ رات کو جاگنے والا جانور ہے اور اس کی لومڑی جیسی لمبی دم ہے۔دوسری نئی قسم، تبتی اونی اڑن گلہری، جنوبی سطح مرتفع تبت میں پائی جاتی ہے جو چین کے علاقے تبت اور بھارتی ریاست سکم کے درمیان ہے۔ ڈاکٹر جیکسن نے کہا کہ کہ ان کے دانت بہت ہی خاص ہوتے ہیں اور یہ صنوبر کے باریک پتوں سے خوراک حاصل کرتی ہیں، جو ایک غیر معمولی خوراک ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں