بھارت کا اسرائیلی سافٹ وئیر پیگاسس کے ذریعے فون ہیکنگ کا انکشاف،عمران خان کا نمبر بھی شامل

واشنگٹن (نیوزٹویو)امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی مودی حکومت سمیت دنیا کے کئی ممالک اسرائیلی کمپنی این ایس او کے فون ہیکنگ سافٹ ویئرپیگاسس کی مدد سے سیاستدانوں، صحا فیوں ،انسانی حقوق کے کارکنوں کے فون ہیک کررہے ہیں اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے بین الاقوامی صحافتی کنسورشیم ’دی پیگاسس پراجیکٹ‘ کے مطابق ادارے نے پاکستان اور انڈیا سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد فون نمبرز سمیت 50 ہزار سے زیادہ فون نمبرز پر مشتمل ریکارڈز تک رسائی حاصل ہوئی جن کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس فہرست میں وزیراعظم عمران خان کاپرانا نمبر بھی شامل ہے جس وقت نمبر ہیک کرنے کی کوشش کی گئی اس وقت عمران خان وزیراعظم نہیں تھے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دنیا کے 17 صحافتی اداروں کی کنسورشیم کی تحقیقات کے مطابق ہیکنگ کے لیے منتخب کیے گئے نمبروں میں سے ایک ہزار سے زائد انڈیا کے فون نمبرز تھےاخبار کے مطابق انڈیا میں ہیکنگ کا نشانہ بننے والے نمایاں ترین افراد  اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی بھی شامل ہیں جن کے دو نمبروں کو ٹارگٹ کیا گیاجبکہ مقتول صحافی جمال خاشقجی کی بیوی کا ٹیلی فون نمبر بھی فہرست میں شامل ہے۔ جمال خاشقجی کو2018 میں قتل کر دیا گیا تھا بھارتی ایجنیسوں نے چینی صحافیوں اورسکھ علیحدگی پسند رہنماؤں کے ٹیلی فون بھی ہیک کیے ان نمبروں کا اندراج آذربائیجان، بحرین، ہنگری، بھارت، قازقستان، میکسیکو، مراکش، روانڈا ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے کیا گیا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کس ملک کونسا نمبر داخل کیامذکورہ سافٹ ویئر کم سے کم50ہزار موبائل فونز پر واٹس ایپ کی مدد سے بھیجا گیا امریکی ا خبار نے کشمیری حریت رہنماوَں، پاکستانی سفارتکاروں کے نمبروں کو بھی ہیک کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ ایجنسی فرانس پریس، وال اسٹریٹ جرنل، سی این این، نیو یارک ٹائمز، الجزیرہ، فرانس 24، ریڈیو فری یورپ ، میڈیا پارٹ، ایل پاس، ایسوسی ایٹڈ پریس ، لی مونڈے ، بلومبرگ ، دی اکنامسٹ ، رائٹرز اور وائس آف امریکہ کے ساتھ کام کرنے والوں سمیت متعدد بھارتی صحافیوں کے فون بھی اس فہرست میں شامل ہیں اس فہرست سربراہان مملکت، وزرائے اعظم، عرب شاہی خاندانوں کے اراکین ، سفارت کاروں، سیاستدانوں، سماجی  کارکنوں اور کاروباری شخصیات کے بھی نمبر ہیں چالیس سے زائد سینئر صحافی ، اپوزیشن رہنماؤں ،سرکاری عہدیداروں اور انسانی حقوق کارکنوں سمیت بھارت کے300 ٹیلیفون نمبر اس میں شامل ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں