بھارت کے پاس افغانستان میں جگ ہنسائی کے بعدبھاگنے کے علاوہ کو ئی راستہ نہیں،وزیرداخلہ

راولپنڈی(نمائندہ نیوز ٹو یو ) وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ بھار ت کے پاس افغانستان  میں جگ ہنسا ئی کے بعد بھاگنے کے علا وہ کو ئی را ستہ نہیں ہے بھارت نے 40سال تک افغانستان میں پاکستانکے خلاف دہشت گردی کو منظم کرنےمیں پوری طا قت لگائی طالبان کے ساتھ مذاکرات سب کے حق میں ہیں خطے میں صورتحال بدل گئی ہےپاکستان کے خلاف دنیا کے میڈیا کو غلط اطلاعات فراہم کی گئیں  اتوار کو کشمیر الیکشن مہم سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے وزیرداخلہ نے کہا کہ پچیس جو لا ئی کو عمران خان اور بلا انتخابات جیت رہے ہیں مریم اور بلاول جلسوں میں بیہودہ اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کررہے ہیں عمران خان کشمیر کا مسئلے کے کیے اقدامات کرین گےشیخ رشید نے کہا کہ یہ کشمیر کا مسئلہ ٹی وی پر لڑتے ہیں عمران خان دنیا میں لڑے گااپوزیشن سمیت تمام جماعتیں پاک فوج کے ساتھ ہیں افغانستان میں سلجھا ہوا طالبان جنم پاچکا یےیہ گن سے نہیں مذاکرات سے فیصلہ کرنے والے ہیں طالبان سے مذاکرات پاکستان سمیت سب کے حق میں ہیں چین روس  ایران ، ہاکستان بدلے ہوئے خطے ہیں بھارت کی دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی ہے امن کے لیے افغانستان کے ساتھ ہیں افغانستان کے خلاف کارروائی کے لیے کسی کو اڈے نہیں دیں گےدنیا کی کوئی سپرپاور پاکستان کو نظرانداز نہیں کرسکتی ہمارے بغیر کسی کی دال نہیں گلنی شیخ رشیدنے کہا کہ موجودہ حکومت اور پاک فوج افغانستان میں امن کی راہ ہموار کریںگے کابل میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے طورخم اور چمن بارڈر پر خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور ایف آئی اے کو اس حوالے سے ہدایات جاری کی گئی ہیں چمن اور طور خم کا بارڈر کھلا رہے گاافغانستان میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہو گی بلاول پورا دستہ لے جائے اس کی کوئی سی وی نہیں بلاول میرے دل کا جانی یے اس کے بغیر کشمیر میں مزہ نہیں مریم غیر پارلیمانی زبان استمال کررہی ہیں کشمیر میں جاکر عمران خان پر نشانہ بازی کرتے ہیں ابھی سے دھاندلی کا شور مچارہے ہیں ان کی سیاسی تکلیف اللہ ہی دور کرے گا انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں امن کے لیے پہلے بھی دنیا کے ساتھ تھے اور اب بھی ساتھ ہیں۔ لیکن اب پاکستان افغانستان کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے کو کوئی اڈہ نہیں دے گا یہ عمران خان کا اٹل فیصلہ ہےپاکستان کی قوم بھی یہی چاہتی ہے کہ ہم آلہ کار نہ بنیں اور غیرت سے جئیں جو لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان پر پریشر ہے تو پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں۔ ایسے خطے میں واقع ہے کہ دنیا کی کوئی سپر پاور ہمیں نظرانداز نہیں کر سکتی۔ خواہ چین ہو، خواہ وہ امریکہ ہو، خواہ وہ روس ہوافغانستان ایک خود مختار ملک ہے وہاں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی۔ نہ اشرف غنی کے لیے، نہ طالبان کے لیے۔ جو عبداللہ عبداللہ فیصلہ کریں، کرزئی فیصلہ کریں، افغانستان کے عوام فیصلہ کریں وہ ہمیں قابل قبول ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں