بیلجئیم کی داعش سے تعلق رکھنےوالی خواتین کو واپس آنے کی اجازت،6یورپی خواتین10بچےروانہ

برسلز(نیوزٹویو) بیلجئیم نے داعش سے تعلق رکھنے والی خواتین اور ان کے بارہ سال سے کم عمر بچوں کو ملک واپس آنے کی اجازت دے دی ہے بیلجیم یورپ کا پہلا ملک ہے جس نے اپنی خواتین کوواپس آنے کی ا جازت دی ہے جس کے بعد شام میں داعش کے کیمپ میں قید چھ یورپی خواتین شہری اپنے 10 بچوں کے ہمراہ بیلجئیم روانہ ہوگئیں۔2019میں شام میں داعش کی شکست کے بعد جہادی گروپ کے مردوں سے مبینہ تعلق رکھنے والی ان خواتین کو بچوں کے ہمراہ مختلف کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔یورپ سے شام اور عراق جانے والی خواتین کی اکثریت کا داعش سے تعلق رکھنے والے مردوں سے نکاح ہوا تھا اور ان کے بچے بھی ہوئے ہیں۔ جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق شام میں داعش کے کیمپ میں قید  تین خواتین نے اپنے سات بچوں کے ہمراہ بیلجیئم واپس جانے سے انکار کر دیا ہے۔ ان خواتین قیدیوں کا کہنا ہے کہ جب وہ  شام کے کیمپ سے واپس جائیں گی تو ہو سکتا ہے کہ بیلجیئم میں ان پر دہشت گردی کا الزام لگاکر گرفتار کیا جائے گا

بیلجیئم کے وزیراعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے اعلان کیا تھا کہ شام کے کیمپوں میں رہائش پزیر بیلجئین خواتین اور ان کے 12 سال سے کم عمر کے بچوں کی وطن واپسی کے لیے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گےبچوں کے حوالے سے کام کرنے والی ہیڈی ڈی پاؤ نے بیلجئیم کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمپوں میں قید بچے یورپ جانے کے لیے تیار ہیں تاہم سیکیورٹی خطرات کے باعث بہت سے یورپی ممالک ان کیمپوں میں قید اپنے شہریوں کو  وطن واپس لانے کے لیے تیار نہیں ہیں یا د رہے کہ برطانوی شہری اور اسکول کی طالبہ شمیمہ بیگم  جنہوں نے 2015 میں داعش میں شمولیت اختیار کی تھی کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر واپس ملک آنے سے روک دیا گیا تھا اور اس کی برطانیہ کی شہریت بھی ختم کی گئی تھی۔وا ضح رہے شام میں 2011  میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد بیلجیئم سے 400 سے زائد افراد بشمول خواتین نے داعش میں شمولیت اختیار کرلی تھی داعش نے شام اور عراق میں 88ہزار مربع کلومیٹر (34ہزار مربع میل) زمین پر کنٹرول حاصل کیا تھا لیکن مارچ 2019 میں شکست کے بعد ان خواتین اور بچوں کو ہزاروں بے گھر افراد کے ساتھ ان کیمپوں میں منتقل کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں