ایف بی آر نےزبردستی رجسٹریشن کی یا نوٹس جاری کیےتوشٹرڈاون ہوگا،مرکزی انجمن تاجران

راولپنڈی (نیوز ڈیسک)تاجروں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے زنردستی پوائینٹ آف سیل لگانے پر بھر پورمزاحمت کا اعلان کر دیا ہے اس ضمن میں راولپنڈی کی تمام تاجر تنظیموں کا مشترکہ اجلاس راولپنڈی چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت صدر ناصر مرزا نے کی اورگروپ لیڈر سھیل الطاف ، چیرمین ٹیکس کمیٹی شاھد سلیم ملک ،راولپنڈی ٹیکس بار کے صدر توقیر بخاری ، شیخ فراز اور شہزاد ملک نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ مرکزی انجمن تاجران راولپنڈی کینٹ کے صدر شیخ حفیظ، ظفر قادری اور شہر کی نمائندگی طارق جدون نے کی،ارشد اعون اور زاھد بختاوری نے اور تاجروں کی مشکلات سے چمبر کے صدر اور تاجروں کو آگاہ کیا۔ شیخ حفیظ نے اپنے خطاب میں ایف بی آر کی جانب سے تاجروں کو ہراساں کرنے اور زبردستی پی او ایس سسٹم کو لگانے کے لیے تاجروں کو نوٹس اور بازاروں میں دوکانوں پر جا کر کے دھمکیاں دینے اور دوکانوں کو زبردستی سیل کرنے جیسے واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ظفر قادری نے آرٹیکل 203-اےکو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ٹیکس گزار کی عزت کی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں اسے چور ثابت کرنے کے لیے مختلف قانون بنائے جاتے ہیں۔چھوٹے اور درمیانے کاروباری لوگوں کو اس حد تک تنگ کر دیا گیا ہے کہ کرونا اور لاک ڈاون کے بعد اب یا تو وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہو گا یا اپنا کاروبار بند کر نے پر مجبور ہو جاے گا۔ سونے پر ٹیکس لگانے والوں کو پتا ہی نہیں ہے کہ پاکستان سونا نہ ہی بناتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی فیکٹری پاکستان میں ہے اس پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ دوائیں جو کہ پہلے ہی عوام کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں ان پر ٹیکس لگا کر کے مزید بوجھ گاھکوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ اب لوگ دوائیں بھی نہیں خرید سکیں گے۔ اجلاس میں گروپ لیڈر سھیل الطاف سے تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ آپ کی آواز وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر خزانہ، چیرمین ایف بی آر تک جاتی ہے اور آپ اور صدر ناصر مرزا صاحب تاجروں کی مشکلات سے تمام اعلی حکام کو مطلع کر دیں۔ تاجروں نے آل پاکستان انجمن تاجران کے کنونشن کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ایف پی سی سی آئی نے بھی لاھور میں کنونشن بلایا ہے۔ ہم سب اپنے حقوق کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ صدر راولپنڈی چمبر اور گروپ لیڈر سھیل الطاف نے تاجروں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ہم آپ لوگوں کی تمام مشکلات سے آج ہی اعلی حکام سے ملاقاتیں کریں گے اور آپ میں بیٹھ کر کے ان تمام مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کر یں گے۔ ہم نہیں چاہتے کہ تاجروں کو پہلے سے ہی ایک سال سے جاری کرونا وائرس اور لاک ڈاون کے نقصانات کے بعد مزید کوئی پریشان کا سامنا کرنا پڑے۔ کاروبار ہو گا تو تاجر ٹیکس بھی دینے کے قابل ہو گا۔ تاجروں نے اعلان کیا ہے کہ ہم آپ کے پاس بڑی امیدیں لیکر آئے ہیں۔ مگر اگر حکومت نے فوری طور پر تاجروں کے ساتھ مشاورت نہ کی اور زبردستی رجسٹریشن اور نوٹس جاری کرتے رہے تو پھر پورے پاکستان کی تاجر برادری سے مشاورت کے بعد مکمل شٹر ڈاون کا اعلان کیا جائے گا۔ تاجروں کی قربانی کو حکومت ریلف پیکج کی بجائے ان کا معاشی قتل نہ کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں