دہشتگردوں کے تمام نیٹ ورکس کی لیڈرشپ افغانستان موجود،رااوراین ڈی ایس ان کی سرپرست،میجرجنرل بابرافتخار

اسلام آباد(نیوزٹویو)پاکستان کی فوج کے ترجمان اور ڈائریکٹرجنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پا کستان کی افواج ملک دشمن عنا صر کو سرکوبی کے لیےمکمل تیار ہے پا کستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی تمام لیڈر شپ افغانستان میں بیھٹی ہےان کو بھارت اورافغانستان کی خفیہ ایجنسیوں را،اور این ڈی ایس کی حمایت حاصل ہےپرامن افغانستان سے بھارت کے لیےپاکستان کے خلاف کام کرنا مشکل ہو جا ئےگا پاک سکیورٹی فورسز نے افغان بارڈرپر غیر قانونی کراسنگ پوائنٹ سیل کر دیے ہیں نوٹیفائیڈ پوائنٹس پر ریگولر دستے بڑھانے شروع کر دیے ہیں۔ پا ک فوج کے ترجمان نے میجر جنرل بابر افتخار نے نجی چینل پر گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ  افغانستان میں موجودہ صورتحال کے باعث دہشت گردوں کے سلیپرسیلز کے دوبارہ اٹھنےکاخدشہ ہے۔ افغانستان میں بھارت کا اثر بہت زیادہ ہے لیکن موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان میں بھارت ہی ہے اس نے وہاں پا کستان کے خلاف کام کرنے اور قدم جمانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیےہیں اب افغانستان میں بھارت کا اثر اس طرح نہیں رہ سکے گا۔ہماری طرف کی باڑ افغانستان کے لیے بھی فائدے مند ہے۔ ’آرمی چیف نے افغان باڑ کو امن کی باڑ کہا ہے یہ کسی کو تقسیم نہیں کرے گی، باڑ امن کو فروغ دے گی اورغلط فہمیوں کوختم کرے گی۔اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے نہ توقع ہے کہ کوئی اور اپنے سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہونے دے گاانہوں نے بتایا کہ اس مہینے کے شروع میں افغانستان میں 40 کے قریب فوجی لڑائی کے باعث پاکستان آگئے تھے، افغان فوجیوں کوپروٹوکول کے ساتھ افغان حکومت کو بتاکر باجوڑ کے راستے ان کےحوالے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان امن عمل کی کامیابی کے لیے اپنا کردار سنجیدگی سے ادا کر رہا ہے اور امن عمل کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔افغانستان کے پوری صورتحال کا پاکستان ضامن نہیں۔ ’ فیصلہ افغانوں کو ہی کرنا ہے کہ کیسے آگے بڑھناہے۔ پاکستان کا سب سے زیادہ مفاد  پر امن افغانستان میں ہے انہوں نے کہا کہ  خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع میں 150 سے زائد دہشت گردی کے واقعات ہو چکے ہیں تاہم اب بھی آپریشن ہو  رہے ہیں جن میں اب تک 42 دہشت گردوں کو مار چکے ہیں۔ افواج پاکستان دشمن عناصر کی سرکوبی کے لیے ہر طرح تیار ہے۔ سیکیورٹی ادارے آپریشن جارہانہ انداز میں کر رہے ہیں اور دہشت گرد بھاگ رہے ہیں۔ اب ہمارے جوان دہشت گردوں کو ختم کیے بغیر دم نہیں لیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 86 ہزار سے زائد قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں آپریشن کیے اور پاکستان میں تمام نو گو ایریاز ختم کر دیے۔ 46 ہزار کلو میٹر کا رقبہ دہشت گردوں سے خالی کرایا جبکہ ساڑھے 4 ٹن سے زائد بارودی مواد قبضہ میں لیا انہوں نے کہا کہ ہمارےپاس شواہد بھی ہیں اور گزشتہ نومبر میں عالمی برادری کے ساتھ ڈوزیر شیئر کیا تھا جس میں بتایا کہ بھارت افغانستان میں اٹیلی جنس ایجنسیز کواستعمال کر کے ٹی ٹی پی جیسی پاکستان دشمن تنظیموں کو دوبارہ منظم کیا، افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کے 62 کیمپ تھے، بھارت کی طرف سے جو سگنل آرہے ہیں بہت واضح کہ وہ مایوس ہیں افغان نائب صدرکے بیان پر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھاکہ افغان صدر کا الزام بالکل غلط ہے انہوں نے بے بنیادقسم کی صورتحال کا بیان دیا ہے، تمام ممالک اپن علاقوں میں اپنے طریقے سے ایکٹ کرنےکاحق رکھتے ہیں، افغان فورسز اپنے علاقے میں آپریٹ کر رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں