طالبان کا افغانستان کے 398میں سے250اضلاع پر قبضےکا دعوٰی

قندھار(نیوزٹویو)افغان طالبان نے دعوی کیا ہے کہ افغا نستان کے398اضلاع میں سے 250اضلا ع پر مکمل قبضے کر لیا ہےاوراب افغانستان کے 85فیصد علاقے ان کے کنٹرول میں ہیں افغان طالبان نے ایران کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہ کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ  بھی کیا ہے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اسلام قلعہ کی سرحدی گزرگاہ ان کے مکمل کنٹرول میں ہے جبکہ طالبان مذاکرات کار شہاب الدین دلاورکے مطابق اب افغانستان کے 85 فیصد علاقے ان کے کنٹرول میں ہیں دوسری جانب افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرین کے مطابق تمام حکومتی فورسز اس علاقے میں موجود ہیں اور وہ کنٹرول واپس لینے کی کوششیں کر رہی ہیں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کی وجہ سے طالبان کے حوصلے بڑھے ہیں اور افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈ لاک کے دوران وہ مکمل عسکری فتح کے لیے دباؤ بڑھارہے ہیں جمعہ کے روز طالبان کی جانب سے ایرانی سرحد سے متصل سرحدی قصبے اسلام قلعہ پر قبضے کا دعویٰ امریکی صدر جوبائیڈن کے امریکی افواج کے انخلا کے متعلق ایک دوٹوک بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہےماسکو میں طالبان کے ایک وفد میں شامل عہدے داروں کے مطابق انہوں نے افغانستان کے398اضلاع میں سے250اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے  لیکن اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ۔

اس سے قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ افغانستان میں فوجی مشن اگست کے آخر تک ختم ہو جائے گا لیکن انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کابل انتظامیہ کے لیے پورے ملک کا کنٹرول سنبھالنا بہت مشکل ہوگاجمعرات کے روز طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے کہا کہ وہ بات چیت کی بنیاد پر کسی سمجھوتے کے خواہاں ہیں۔

دوسری جانب روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ طالبان افغان تاجک بارڈر کے ساتھ دوتہائی علاقے پر قابض ہو چکے ہیں۔امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ ُسٹیٹس کو  بہتر آپشن نہیں ہے، میں امریکیوں کی ایک اور نسل کو افغانستان کی جنگ میں نہیں دھکیلوں گا۔ صدر جوبائیڈن کے کہا کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ صرف وہاں کے لوگ ہی کر سکتے ہیں عالمی خبر رساں ادارےکے مطابق  جب جو بائیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا اب افغانستان میں طالبان کا قبضہ یقینی ہے تو انہوں نے کہا ’ نہیں ایسا نہیں ہو گا‘  لیکن انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہاں ایک متفقہ حکومت کے قیام کے امکانات کافی کم ہیں۔طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے  عالمی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اور غیر ملکی افواج جس قدر جلدی افغانستان سے نکلیں گی اتنا اچھا ہوگادوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم صورت حال کو سنبھال لیں گےانہوں نے کہا ہم تاریخ کے پیچیدہ ترین مرحلے سے گزر رہے ہیں لیکن ہم حق پر ہیں اور خدا ہمارے ساتھ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں