طالبان کا پاکستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہ چمن سپین بولدک پر قبضہ کا دعویٰ،افغان حکام کی تردید

چمن (نیوزٹویو) پا کستان کے سرحدی علاقے چمن سے ملحق افغان سرحدی گزرگاہ چمن  سپین بولدک کے حوالے سے طالبان اور ا فغان فورسز کے متضا د دعوےٰ سامنے آئے ہیں طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے افغان علاقے میں چمن سپین بولدک سرحدی راہداری پر قبضہ کر لیا ہے پاک افغان باب دوستی گیٹ پر پرچم لہرانے کا دعوی بھی کیا ہے تاہم افغان حکام نے اس کی تردید کی ہے۔افغان وزرات داخلہ کے ترجمان طارق آرین نے طالبان کے سرحدی گزرگاہ پر قبضے کے کچھ ہی دیر بعد عالمی خبر رساں ا دارے کو بتایا کہ دہشت گرد طالبان کی سرحدی علاقے کے قریب کچھ حرکت تھی لیکن سکیورٹی فورسز نے اس حملے کو پسپا کر دیا ہے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مجاہدین نے قندھار میں ایک اہم سرحدی قصبے ویش پر قبضہ کر لیا ہے اس قبضے سے (سپین) بولدک، چمن اور قندھار کسٹمز مجاہدین کے کنٹرول میں آ گئے ہیں۔ دوسری جانب ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار نے طالبان کے اس دعویٰ کی تصدیق کرتے ہو ئےعالمی خبررساں ا دارے کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان نے افغان علاقے میں چمن سپین بولدک سرحدی راہداری پر قبضہ کر لیا ہےانہوں نے اپنے جھنڈے لہرائے اور افغان جھنڈا اتار دیا

 افغانستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق رات گئے چمن سے ملحقہ افغان صوبے قندھار کے سرحدی شہر سپین بولدک کے ویش بازار میں طالبان اور افغان فورسز میں جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد افغان فورسز نے پسپائی اختیار کر لی۔ جھڑپوں کے دوران جانی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں۔افغان فورسز کے پیچھے ہٹنے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں طالبان پاک افغان سرحدی گیٹ تک پہنچے اور باب دوستی گیٹ پر اپنا پرچم لہرا دیا۔ طالبان کی جانب سے اس سلسلے میں ویڈیوز بھی جاری کی گئیں جس میں وہ سرحدی گیٹ سے ملحقہ علاقے میں گشت کرتے ہوئے اور چوکیوں پر پرچم لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق افغان چوکیوں پر طالبان کے پرچم پاکستان کی جانب سے بھی نظر آرہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق طالبان نے صرف سرحدی گیٹ اور ویش کی معروف تجارتی منڈی پر قبضہ کیا ہے۔ اس سے کچھ ہی فاصلے پر ضلعی مرکز سپین بولدک میں افغان فورسز کی بھاری نفری موجود ہیں جس کی وجہ سے متحارب فریقین میں جھڑپوں کا خطرہ موجود ہیں۔ ادھر پاکستان نے بدھ کو آمدروفت روکنے کے لیے سرحد بند کر دی ہے۔ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ جمعہ داد مندوخیل کے مطابق صورتحال کے پیش نظر پاک افغان سرحد غیر معینہ مدت کے لیے بند کردی گئی ہے اور سرحد پر سکیورٹی انتظامات میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے ایف سی نے افغان سرحد کی جانب جانے والے راستے کو بھی رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا ہے جبکہ چمن کے مرکزی بازار سے سرحد کی طرف جانے والے راستے پاکستانی فورسز نے بند کر دئیے ہیں تاہم ابھی تک اس حوالے سے پاکستان کی وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہےوا ضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کی تقریباً اڑھائی ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر سپین بولدک چمن سرحد اہم تجارتی گزرگاہ ہے۔ اس راستے سے ہر روز ہزاروں افغان اور پاکستانی شہریوں کی آمدروفت بھی ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں