طالبان کے عجیب حامی اور مخالف— سلیم صافی

معاف کیجئے لیکن پاکستان میں دونوں فریق جھک مار رہے ہیں۔ طالبان کے مخالفین بھی اور حامی بھی۔ مثلاً پختون قوم پرست جو اشرف غنی کے سپورٹر ہیں، کی توپوں کا رخ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہے جبکہ امریکہ، جس نے اشرف غنی حکومت کے ساتھ تاریخ کی سب سے بڑی بے وفائی کی اور افغان عوام کو تاریخی دھوکہ دیا،کے بارے میں خاموش ہیں۔ امریکیوں نے طالبان کے بعض رہنمائوں کو گوانتاناموبے سے رہا کیا۔ ملا برادر کو پاکستانی جیل سے رہا کروایا۔ طالبان سے سفری پابندیاں ہٹوائیں۔ انہیں قطر حکومت کا وی آئی پی مہمان بنایا ۔ اشرف غنی حکومت کو بائی پاس کرکے ان سے مذاکرات کئے ۔ پھر ان سے ایسی ڈیل کی جو سراسر طالبان کے فائدے میں تھی۔ اشرف غنی حکومت سے ڈنڈے کے زور پر طالبان کے پانچ ہزار قیدی رہا کروائے لیکن جواب میں ان سے افغانوں کے لئے جنگ بندی کی گارنٹی تک نہیں لی۔ لیکن تماشہ یہ ہے کہ اشرف غنی حکومت کے غم میں ہلکان ہونے والے پختون قوم پرست نہ امریکہ کی مذمت کررہے ہیں اور نہ اس کے خلاف جلوس نکال رہے ہیں ۔ وہ سارا غصہ پاکستانی میڈیا پر نکال رہے ہیں ۔ گزشتہ روز میں نے افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کے ساتھ انٹرویو کیا تو سوشل میڈیا پر میرے خلاف طوفان برپا ہوگیا حالانکہ میرے ساتھ انٹرویو سے قبل افغانستان کے مختلف چینلز پر ان کے سینکڑوں انٹرویو نشر ہوچکے ہیں۔ سہیل شاہین اور ڈاکٹر نعیم تو پھر بھی طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان ہیں لیکن افغان چینلز پر تو ہر روز جنگی محاذ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے انٹرویوز نشر ہورہے ہیں ۔سہیل شاہین جیسے لوگوں کے انٹرویوز کی بھی ہمیں تب اجازت ملی جب پہلے امریکہ نے انہیں تسلیم کیا اور سی این این اور الجزیرہ پر ان کے درجنوں انٹرویوز آن ایئر ہوئے ۔جب تک امریکہ نے طالبان کو تسلیم نہیں کیا تھا(واضح رہے کہ قطر ڈیل پر دستخطوں کے دوران امریکہ نے روس، چین اور کئی دیگر ملکوں کے وزرائے خارجہ کو بھی دعوت دی تھی) تب تک میں نے اپنے پروگرام میں کبھی سہیل شاہین یا افغان طالبان کے کسی اور رہنما کو مدعو نہیں کیا تھا۔ پاکستان کی ہر مذہبی اور سیاسی جماعت افغانستان کے قضیے میں فریق ہے لیکن میں بطور صحافی فریق نہیں ہوں۔ حامد کرزئی کے سب سے زیادہ انٹرویوز میں نے کئے ۔ ڈاکٹر اشرف غنی کے سب سے زیادہ انٹرویوز میں نے اسی جیو نیوز پر آن ایئر کرائے ۔ ڈاکٹر عبدﷲ عبدﷲ اور استاد محقق جیسے رہنمائوں کے انٹرویوز کرانے کا اعزاز بھی مجھے حاصل ہوا ۔ باقی اگر پاکستان کے کسی رہنما کا انٹرویو نشر نہیں ہوتا تو وہ ریاستِ پاکستان کی طرف سے پابندی عائد ہے ، ہماری طرف سے نہیں۔ ہماری عدالتیں اور سیاسی رہنما ہمت کرکے ہمیں وہ اجازت دلوادیں تو ہم ان کا انٹرویو کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے ۔ ہم صحافی طالبان کی طرح بندوق اور بم کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ سیاسی رہنمائوں کی طرح ہمارے پیچھے کارکنوں کی فوج ہے ۔ فرحت ﷲ بابر جیسے محترم کو بھی میرے سہیل شاہین کے ساتھ انٹرویو پر اعتراض ہے لیکن کیا وہ نہیں جانتے کہ کس طرح ان کے لیڈر بلاول بھٹو نے ڈیل ہوجانے کے بعد پی ٹی ایم کے محسن داوڑ کو پی ڈی ایم سے نکال باہر کیا۔ کیا اس پر بابر صاحب نے کوئی اعتراض کیا ؟ اس وقت بھی فرحت ﷲ بابر کے لیڈر بلاول بھٹو اور اے این پی ان قوتوں کے ایما پر پی ڈی ایم سے نکلے ہیں لیکن شاہین سے لڑنے کا درس دے رہے ہیں۔ الزام یہ لگایا جارہا ہے کہ افغان طالبان کی زیادہ موجودگی بلوچستان میں ہے ۔ پاکستان میں اگرکوئی حکومت مکمل طور پر سلیکٹڈ ہے تو وہ بلوچستان کی حکومت ہے لیکن عوامی نیشنل پارٹی وزارتوں کی خاطر اس حکومت کا حصہ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ وہاں ان قوتوں کے ہاتھ کیوں مضبوط کئے جارہے ہیں جو اے این پی کی قیادت کے بقول افغانستان میں تباہی کی ذمہ دار ہیں۔افغان تو افغان ہیں، اے این پی نے ماضی میں افغان طالبان کے علاوہ پہلے پاکستانی طالبان سے بھی معاہدے کر چکی ہے ۔ وہ ان کے پاس نہیں آتے تھے بلکہ اے این پی کے وزرا اور افراسیاب خٹک صاحب مولانا صوفی محمد کی خدمت میں دیر حاضرہوتے تھے ۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں