علماءکرام حق کاساتھ دیں،صدرآزادکشمیرسردارمسعود

مظفرآباد(نیوزٹویو) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے علمائے کرام پر زور دیا کہ وہ اپنے اسلاف کے کردار کی پیروی کرتے ہوئے حق کا ساتھ دیں اور ظلم، ناانصافی اور بدترین جبر کا شکار کشمیریوں کی آواز محراب و ممبر کے ذریعے بلند کر کے اپنا دینی و انسانی فریضہ ادا کریں۔ برصغیر اور دنیا کے کسی بھی خطہ میں مسلمانوں پر جب کوئی افتاد پڑی تو اس کے خلاف سب سے بلند اور توانا آواز ہمیشہ ہماری مساجد، خانقاہوں اور مدارس دینیہ سے بلند ہوئی اور ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ کشمیر کے مسلمانوں پر جبر کی کالی گھٹا کے خلاف علمائے ملت متحد اور یکجا ہو کر آواز اٹھائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صدر مظفرآباد میں جمعیت علما اسلام کے امیر و سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ آزاد کشمیر مولانا قاضی محمود الحسن اشرف کی قیادت میں ایک وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خطے میں ایک جارح اور دہشت گرد ملک ہے جو بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے قاتل کے طور پر مشہور ہے اس لیے مسئلہ کشمیر پر ملک کی تمام دینی اور سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم سے مشترکہ کانفرنسیں سمینار اور دوسرے پروگرام کرنے چاہیے تاکہ لائن آف کنٹرول کے دوسرے جانب ظلم و قہر کا شکار ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے لیے حوصلے کا پیغام جائے۔ قبل ازیں جمعیت علما اسلام کے سربراہ نے صدر ریاست کی توجہ تجوید القرآن ٹرسٹ کے منظور کردہ مدارس مکاتب کے جلد اجرا،  آزاد کشمیر میں شریعت کورٹ کی بحالی، سینئر ترین ضلع قاضی صاحبان کو ہائی کورٹ میں شریعت کے ماہرین کے طور پر تعیناتی، شریعت اپیل بنچ میں محکمہ امور دینیہ کے سینئر ترین مفتی کی تعیناتی، آزاد کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ علوم اسلامیہ کے طلباء کی بھاری فیسوں میں کمی یا معافی ، حافظ قرآن کریم طلباء و طالبات کو خصوصی رعایت دینے، تجوید القرآن ٹرسٹ کے معلمین کی تنخواہوں میں موجودہ مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرنے ، دینی مدارس کے اقامتی طلباء و طالبات کے وظیفے میں اضافہ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر اور عالم اسلام کی مرکزی دینی درسگاہ، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے شیخ الحدیث ورئیس جامعہ کی رحلت سے ہونے والے علمی  نقصان کی اظہار خیال کیا۔ صدر ریاست نے تمام مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنے اور ان کے حل کی یقین دہانی کرائی۔  اس موقع پر جناب صدر ریاست نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب کی رحلت پر تعزیت کا اظہار کیا اور جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے نو منتخب مہتمم مولانا سید سلیمان یوسف بنوری  مرحوم کے فرزند مولانا ڈاکٹر سعید اسکندر، مولانا مفتی یوسف اسکندر نائب رئیس الجامعہ، مولانا احمد یوسف بنوری اور دیگر معزز اساتذہ کرام اور خاندان بنوری سے تعزیت کا اظہار کیا  اور دعائے مغفرت کی۔ انہوں نے حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری صاحب نو منتخب مہتمم جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے نام  تعزیتی مکتوب بھی ارسال کیا۔ اس موقع ہر امیر آل جموں کشمیر جمیعت علماء مولانا قاضی محمود الحسن اشرف نے موجودہ حالات و مسائل کا حل قرآن کریم کی روشنی کے نام سے طبع ہونے والی شیخ الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب بھی جناب صدر ریاست کو پیش کی، جس پر صدر ریاست نے شیخ  الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کی عظیم تعلیمی و تحقیقی خدمات و کردار پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب جیسی شخصیات کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے وہ امت مسلمہ کا عظیم اثاثہ ہیں، میں اس مقصد کے لیے خود بھی ان سے ملاقات کے لیے کراچی گے تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں