ملازمت سے متعلق مقدمات سننا ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار نہیں ہے،سپریم کورٹ

اسلام آباد (نیوزٹویو)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ملازمت سے متعلق مقدمات سننا ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار نہیں ہے سپریم کورٹ نے ملازمت سے متعلق مقدمات بارے اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے سپریم کورٹ نے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی ملازمہ شمیم عثمان کو گریڈ 20 میں ترقی دینے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے اورلاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہائیکورٹ کو آرٹیکل 212 کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے دائرہ اختیار کا خیال رکھنا چاہئے شمیم عثمان نے محکمہ کیخلاف درخواست سروس ٹربیونل کے بجائے ہائیکورٹ میں دائرکی تھی سپریم کورٹ نے شمیم عثمان کو گریڈ 20 میں ترقی دینے کیخلاف پنجاب حکومت کی اپیل منظور کر لی ہے سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت ہائیکورٹ ملازمت سے متعلق مقدمات نہیں سن سکتی قانون کے مطابق سروس ٹربیونل ملازمت سے مقدمات سننے کا مجاز ہے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے گزشتہ برس 7 دسمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھاپا نچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں