میک اپ کے سامان کو پرتعیش مصنوعات سمجھنا درست نہیں، سعدیہ تیمور

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیرخزانہ شوکت ترین کی جانب سے بجٹ 2021-22 میں درآمدی کاسمیٹکس اشیاء کی کسٹم ڈیوٹی پر 11 فیصد سے اضافہ کیا گیا تھا جس سے حکومت کو اس مالی سال کے دوران 11 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے۔بیوٹیشنز کے مطابق ٹیکس لگائے جانے کی وجہ سے لاکھوں خواتین کے لیے روزگار کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ حکومت نے میک اپ کو پرتعیش مصنوعات سمجھ کر بھاری ٹیکس لگائےہیں جس سے خواتین بالخصوص بیوٹیشنز زیادہ پریشان ہیں اور اُنہوں نے کاسمیٹکس کی اشیاء پر بھاری ٹیکسوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔بیوٹیشنز کےمطابق ٹیکسز زیادہ ہونے کے باعث خواتین کیلیے کاسمیٹکس کی اشیاء مہنگی ہوجائیں گی جس سے صارفین کو مشکلات درپیش ہونگی۔ کاسمیٹکس کی اشیاء پر ٹیکس میں اضافہ ہونے کے باعث خدمات کے عوض ریٹس بھی بڑھ جاتے ہیں۔پنجاب کی رکن صوبائی اسمبلی سعدیہ تیمور کا کہنا ہے کہ خواتین کے میک اپ کے سامان کو پرتعیش مصنوعات سمجھنا درست نہیں ہے۔یہ خواتین کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں