نازیباویڈیوکیس،ملزمان کا مزید4روزریمانڈ،ویڈیوڈھا ئی گھنٹے کی بنا ئی گئی،پولیس

اسلام آباد( نمائندہ نیوزٹویو)جوڈیشل مجسٹریٹ ویسٹ وقار گوندل کی عدالت نے تھانہ گولڑہ میں درج نازیبا ویڈیو بنانے، تشدد اور بلیک میلنگ کیس میں گرفتار عثمان مرزا وغیرہ کےجسمانی ریمانڈ میں چار روزہ توسیع کردی۔گذشتہ روز سماعت کے دوران پولیس نے جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر ملزمان عثمان مرزا، عطاء الرحمن، فرحان اور ادارس قیوم بٹ کو سخت سیکیورٹی میں عدالت پیش کیا،اس موقع پر متاثرہ لڑکے اسد اور متاثرہ لڑکی کی طرف سے حسن جاوید سورش ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیاکہ ٹوٹل کتنے دن کا ریمانڈ لیاجاچکاہے، جس پر سرکاری وکیل نے بتایاکہ ملزمان کا اب تک6روزہ جسمانی ریمانڈ لیاجاچکاہے، مرکزی ملزم عثمان مرزا سے 2 موبائل اور پسٹل برآمد کیا گیا،مدعیوں کا164 کا بیان ریکارڈ کیا گیا ہے،ملزمان نے 11 لاکھ 25 ہزار روپے وقت فوقتا مدعیوں سے وصول کیے،ڈھائی گھنٹے کی ویڈیو بنائی گئی اور 14 ملزمان شامل ہیں،375 اے کی نئی دفعات لگائی گئیں ہیں جس میں عمر قید یا سزا موت ہے،ڈھائی گھنٹے کی ویڈیو میں ملزمان نے خاتون کو برہنہ کر کے اعضا کو چھوا ہے،ملزم سے جو پسٹل برامد ہوا ہے اس کی الگ ایف آئی آرتھانہ آئی نائن میں درج کروا دی گئی ہے،بھتہ وصولی پر دفعہ 384 کی دفعہ لگائی گئی ہے،واقعے کے دن 6 ہزار روپے بھی ملزمان سے پیسے چھینے گئے، ملزمان کو مزید جسمانی ریمانڈ پر حوالے کیا جائے، ملزمان سے بھتہ کی صورت میں وصول کیے گئے پیسے اور موقع پر لیے گئےپیسے اور دیگر ملزمان کی نشاندہی کروانی ہے، سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ عدالت جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرے،متاثرہ لڑکے اور لڑکی کے164کے بیان میں مزید ملزمان کا نام سامنے آیا ہے،چودہ پندرہ ملزمان تھے اڑھائی گھنٹے کی ویڈیو انہوں نے بنائی تھی،یہ متاثرین کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں،اس کیس میں جے آئی ٹی بھی بن چکی ہے،اس کیس میں ہم نے مزید دفعات بھی لگائی ہیں، ملزمان کے وکلاء نے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی مخالفت کردی، عطاء الرحمن کے وکیل نے کہاکہ عطاءالرحمن حافظ قرآن حافظ ہے،عدالت نے کہاکہ میں نے خود ملزم حافظ عطاء الرحمن سے سورۃ یاسین سنی تھی،وکیل نے کہاکہ یہ کب کا واقعہ ہے پولیس کو بھی علم نہیں، ویڈیو کے معاملات کے لیے پولیس سائبر کرائم سیل کیوں نہیں جا رہی،جس نے بھی ویڈیو وائرل کی اسکو بھی گرفتار کیا جائے،ایس ایس پی  کی سربراہی میں  سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم بنی ہے،حافظ عطاء الرحمن کی جانب سے تو روکا گیا کہ ایسا نہ کیا جائے، وکیل مدعی نے کہاکہ وکیل صفائی کی جانب سے کہا گیا کہ کیس سائبر کرائم سیل کی جانب جائے گا ایسا نہیں ہے، مدعی سیکیورٹی کے باعث پیش نہیں ہوئے،ڈیٹا کی ریکوری کیلئے ضروری ہے کہ ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر دیا جائے،ایسےحالات بنادیے گئے ہیں کہ کوئی شادی شدہ جوڑا بھی ہوٹل جانے سے ڈرتا ہے،وکیل نے کہاکہ اس کیس میں پوری سوسائٹی ڈسٹرب ہوئی ہے ہر شہری خوف میں مبتلا ہے،ویڈیو کی برآمدگی بہت بڑا کام ہے اس میں پولیس کام کر رہی ہے،یہ ایک بہت بڑا کیس ہے اس کو مثال بنانا چائیے،ویڈیو برآمدگی، لیپ ٹاپ اور دیگر چیزیں برآمد کرنا ہیں ملزمان کو زیادہ سے زیادہ ریمانڈ دیا جائے، وکیل صفائی نے کہاکہ پراسیکیوشن اس بات کی پابند ہے لمحہ بہ لمحہ عدالت کے سامنے حساب دینا ہے،مرکزی ملزم نے جو کیا اس کی ہم بھی مذمت کرتے ہیں،عدالت نے کہاکہ آپ نے سب جوڈیز کی بات کر کے بہت اچھا کیا ہے،وکیل صفائی نے کہاکہ ملزم فرحان کو کشمیر ہائی وے سے بلایا گیا ہے،عدالت نے استفسار کیاکہ تفتیشی افسر نے کیا ملزم فرحان کی لوکیشن لی ہے،جس پر تفتیشی افسر نے بتایاکہ جی لوکیشن لی ہے اس کی لوکیشن وقوعہ والی جگہ آرہی ہے،ملزم فرحان کے وکیل نے کہاکہ متاثرہ لڑکے اور لڑکی کا 161 کا بیان لیا جا چکا تھا اس وقت مزید دفعات کیوں نہیں لگائی گئی،یہ انصاف نہیں کہ جے آئی ٹی بن گئی ہے،ملزم فرحان اور ملزم عطاء الرحمن سے تفتیش میں کیا سامنے آیا،اب دفعات زیادہ لگا کر ریمانڈ مانگا جا رہا ہے، سرکاری وکیل نے کہاکہ یہ واقعہ کئی ماہ پرانا ہے جو وقوعہ دو تین دن پرانا ہو اس کی تفتیش کے لیے بھی وقت درکار ہوتا ہے،جن کے ساتھ ظلم ہوا پرانا واقعہ ہے زیادہ سے زیادہ ریمانڈ دیا جائے،عدالت نے ہدایت کی کہ تفتیشی آفیسر ملزمان کے رول کا تعین کرے،وکیل نے کہاکہ 150 گھنٹے ہو چکے ہیں ابھی تک کیا تفتیش کی گئی ہے،عدالت نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی نہیں ایس آئی ٹی بنی ہے،تفتیشی آفیسر نے تفتیش میں کیا برآمد کیا ہے،وکیل صفائی نے کہاکہ ملزم ادارس قیوم بٹ کو میڈیکل ایشو ہے،جس پر عدالت نےملزم ادارس قیوم بٹ کی ادویات کا خیال کرنے کی ہدایت کردی اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیابعدازاں عدالت نے چاروں ملزمان کومزید چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالہ کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں