نیٹو اورامریکی افواج نے بگرام کا ہو ائی اڈہ خالی کر دیا،سرکاری طور پر ہفتہ کو افغان فورسز کے حوالے کیا جا ئے گا

کابل (نیوزٹو یو) نیٹو اورامریکی ا فواج طالبان کو دئیے گئے ٹائم فریم سے پہلے ہی ا فغانستان خالی کرنے کا فیصلہ کیا ہےدودن میں یعنی اتوار تک تمام غیر ملکی افواج افغنانستان سے نکل جا ئیں گی جس کے بعد افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا مکمل ہو جا ئے گا نیٹو اور امریکی افواج نے انخلا ء کے آخری مرحلے میں 2دہا ئیوں کے بعد بگرام کا ہوا ئی اڈہ خالی کر کے ا فغان سکیورٹی فورسز کے سپرد کر دیا ہے اوراڈہ خالی کر کے چلی گئیں ہیں کابل میں امریکی فورسزکی صرف اتنی تعداد باقی رکھی گئی ہے جو امریکہ کے سفارتخانے کی سکیورٹی کے لیے ضروری ہے اور وہ صرف سفارتخانےکی حفاظت پر ہی معمور ہوں گے باقی تمام فوجی واپس چلے گئے ہیںامریکی میڈیا کوامریکی سینئر سیکیورٹی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ تمام امریکی فوجی اور نیٹو افواج کے ارکان بگرام ہوائی اڈے سے چلے گئے ہیں امریکی فوج نے کابل سے تقریبا 60 کلومیٹر (40 میل) شمال میں بگرام ہوائی اڈے سے اپنے افغان مشن کے لئے اپنی فضائی جنگ اور لاجسٹک سپورٹ کو مربوط کیا تھا اور افواج کی واپسی اس ملک میں امریکی فوجی مداخلت کے خاتمے کا اعلان ہے۔یہ اڈہ غیر سرکاری طورپرافغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا ہے کیونکہ اس کی مسلح افواج کو طالبان کے ساتھ ایک زبردست جنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کے امکانات پر سوالات اُٹھتے ہیں سرکاری افغان عہدیدار کے مطابق کہ یہ اڈا باقاعدہ سرکاری طور پر ہفتے کے روز ایک تقریب میں حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔امریکی دفاعی عہدیدار نے کہا کہ افغانستان میں اعلی امریکی ڈاٹ کام ڈھانچے کے جنرل آسٹن ملر “دارالحکومت ، کابل میں واقع” فورس کی حفاظت کے لئے تمام صلاحیتوں اور حکام کو برقرار رکھتے ہیں دو دیگر امریکی سیکیورٹی عہدیداروں نے رواں ہفتے کہا کہ ممکنہ طور پر 4 جولائی تک امریکی فوجی اہلکاروں کی اکثریت ختم ہوجائے گی ، سفارتخانے کی حفاظت کے لئے بقایا فورس باقی ہے۔گذشتہ ماہ ، امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے افغان ہم منصب ، اشرف غنی سے کہا تھا کہ “افغانیوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے ، وہ کیا چاہتے ہیں غنی نے کہا کہ ان کا کام اب امریکی انخلا کے “نتائج کو سنبھالنا” ہے خیال رہے کہ امریکی ڈونلڈ آؤٹ پر طالبان کے ساتھ معاہدہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت ہوا تھا امریکی انخلا کے بدلے، طالبان، غیر ملکی افواج کو ملک بدر کرنے اور امریکی حمایت یافتہ حکومت کو ختم کرنے کے لئے لڑنے والے ، افغان سرزمین سے کسی بھی بین الاقوامی دہشت گردی کو روکنے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے حریفوں سے مذاکرات کرنے کا عہد بھی کیا لیکن مذاکرات میں بہت کم پیشرفت ہوئی ہے۔خبرایجنسی کے مطابق امریکی آفیشلز بگرام ائیرفیلڈ امریکا پر 11 ستمبر کے حملوں کے بعد طالبان کو شکار کرنے کیلئے افغان جنگ کا سنٹر تھا۔ بگرام ائر پورٹ کے قریب بگرام کی جیل ہے جہاں ا لقاعدہ اور طالبا ن کو قید رکھا جاتا تھا اور اب بھی کئی طا لبان جنگجوافغان فورسز کے زیرحراست ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں