کابل میں نماز عیدالا ضحیٰ کے دوران صدارتی محل کے قریب راکٹوں کے دھماکے

کابل (نیوزٹویو)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں عیدالا ضحیٰ کی نماز کے دوران صدارتی محل کے قریب راکٹ فائر کیے گئے افغان صدر اشرف غنی اور نائب صدر عبداللہ عبداللہ سمیت اعلی فوجی حکام اور اعلیٰ حکومتی عہدیدارصدارتی محل میں نماز عیدادا کررہے تھے دوران نماز راکٹ دھماکوں سے عبداللہ عبداللہ سمیت کئی حکام ڈر کے جھکے تا ہم افغان صدر سیدھے کھڑے رہے لیکن کسی نے نماز ختم نہیں کی ان راکٹ حملوں میں کسی کے زخمی ہو نے کی کو ئی ا ظلا ع مو صول نہیں ہو ئی  جبکہ دوسری جانب گزشتہ برسوں کی برعکس اس سال عیدالاضحیٰ پر طالبان کی جانب سے سیز فائز کا اعلان نہیں کیا گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے نے افغان حکام اور میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ منگل کی صبح ہونے والے ان راکٹ حملوں کے بارے میں ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے یا د رہے کہ اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ افغانستان کے صدارتی محل کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ صدارتی محل پر آخری راکٹ حملہ گزشتہ برس دسمبر میں ہوا تھا افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان میرویس ستانکزئی نے کہا کہ یہ راکٹ محل کے باہر گرین زون میں تین مختلف مقامات پر گرے ہیں اور فی الحال کسی بھی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ ہماری ٹیم اس حملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔افغان ٹی وی چینلز کی فوٹیج کے مطابق یہ راکٹ حملہ اس وقت ہوا جب صدر اشرف غنی دیگر اہم حکومتی شخصیات کے ساتھ محل کے ایک سبزہ زار میں نمازعیدالاضحیٰ ادا کر رہے تھے۔راکٹ گرنے کے بعد دھماکوں کی آواز سنائی دی لیکن نماز جاری رہی، اس کے بعد صدر اشرف غنی نے خطاب بھی کیا جو مقامی میڈیا پر نشر کیا گیا وا ضح  رہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کی انخلا میں تیزی کے بعد مختلف صوبوں میں طالبان اور حکومتی فورسز میں جھڑپوں کی وجہ سے غیر یقینی کی فضا قائم ہے۔ گزشتہ دنوں میں طالبان نے کئی اضلاع اور سرحدی گزرگاہوں کا کنٹرول سنبھالنے کے دعوے کیے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں