گالم گلوچ ایک سیاسی ہتھیار— روف حسن

اس گالم گلوچ کے ہمارا معاشرہ گالم گلوچ کے ماحول سے کبھی پاک نہیں رہا لیکن کچھ عرصے سے یہ ماحول مزید خراب ہوتا نظر آ رہا ہے، بالخصوص سیاسی میدان میں۔ اس بارے میں جتنی زیادہ آگہی ملتی ہے، اتنا ہی حیرانی میں بھی اضافہ ہوتا ہے کہ لوگ گالی کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ایک طرف تو یہ ان لوگوں کی گری ہوئی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جنہوں نے سیاست کو اپنا پیشہ بنا رکھا ہے اور دوسری طرف یہ اخلاقی معیار میں ایک گراوٹ کی بھی عکاسی کرتا ہے جس کا زہر معاشرے میں سرایت کر چکا ہے۔ بلاشبہ یہ رحجان نیا نہیں بلکہ طویل عرصے سے ایسا ہوتا چلا آ رہا ہے جو اب ہمارے معمولاتِ زندگی کا حصہ بن چکا ہے اور اس نے ایک بھیانک شکل اختیار کرلی ہے۔

بدقسمتی سے گالم گلوچ کے کلچر کو پروان چڑھانے میں جو منفی کردار میڈیا ادا کر رہا ہے وہ خاص طور پر مایوس کن ہے۔ ٹی وی پروگراموں میں شریک مہمانوں کی جانب سے تبصروں کے دوران ایسی غیرمہذب زبان سننے کو ملتی ہے جو تہذیب و شائستگی کے طے شدہ معیار پر پورا نہیں اترتی۔ ایسا سب کچھ سیاست کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اینکرز بھی اپنے چہروں پر شاطرانہ مسکراہٹ سجا لیتے ہیں، ان کا یہ طرزِ عمل ایسا ہی ہے جیسے وہ اپنے مہمانوں کے بیانات کو سراہ رہے ہوں اور دوبارہ پروگرام میں شرکت کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہوں۔

گالم گلوچ کے کلچر کی گونج اب مقدس ایوانوں میں بھی سننے کو ملتی ہے جہاں سیاستدان اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کیلئے غلیظ اور گھٹیا زبان استعمال کرتے ہیں، اس دوران خواتین اراکین کی پارلیمنٹ میں موجودگی کا بھی احساس نہیں کیا جاتا۔ یہ سلسلہ پارلیمنٹ کے ایک اجلاس تک محدود نہیں رہتا بلکہ آئندہ اجلاسوں میں بھی کسی پچھتاوے کے بغیر جاری رہتا ہے۔ سیاستدانوں کے اس منفی طرزِ عمل سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ’’خصوصیت‘‘ ہمارے سیاسی نظام کا لازمی جزو بن چکی ہے جس کے استعمال سے وہ اپنے کمزور بیانیے اور کارکردگی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

معاشرے کے دیگر شعبوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے ساتھ ساتھ یہ کلچر ان سیاستدانوں کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی کا بھی عکاس ہے جو اپنے ادوار اقتدار میں ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچانے میں مکمل طورپر ناکام رہے۔ آج وہی سیاستدان اپنی ماضی کی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے طوفان بدتمیزی کی آڑ میں چھپنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بعض سیاستدانوں نے قانون کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے احتساب سے بچنے کے لئے عدالتوں اور احتساب بیورو تک پر حرف زنی کی۔

لیکن مہذب معاشروں میں اس طرح سے معاملات نہیں چل سکتے۔ اگرہم مزید انحطاط سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے منفی رویوں پر قابو پانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے اور حقیقی جمہوریت کے لئے طے کردہ تقاضوں پر پورا اترنا ہوگا۔ اگر کوئی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے سزا ضرور ملنی چاہئے۔ اپنے آپ کو عوامی لیڈر کہنے والوں کو بغیر کسی ہچکچاہٹ خود کو احتساب کے لئے پیش کرکے، دوسروں کے لئے خودکو ایک مثال بنانا چاہئے۔ انہیں کسی صورت بھی جرم کا دفاع نہیں کرنا چاہئے۔

گالم گلوچ کے کلچر کو پروان چڑھانے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ حکمران طبقات نے عوام بالخصوص پسماندہ طبقوں کا احساس محرومی دور کرنے اور ان کے جائز مطالبات کو حل کرنے کی طرف کبھی توجہ نہیں دی۔ ہر جگہ ایسے طاقتور مافیاز موجود ہیں جو اداروں کے فرائض کی ادائیگی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ بدقسمتی سے اپنے ناجائز کاموں کو تحفظ دینے کے لئے وہ ایسی دولت کا استعمال کرتے ہیں جو انہوں نے اقتدار کے دوران غیرقانونی ذرائع سے اکٹھی کر رکھی ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے یہ دولت وہ ہتھیار ہے جسے وہ اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے انتہائی بے دردی کے ساتھ استعمال کرکے پورے نظام کو اپنے تابع کرکے مفلوج کر دیتے ہیں۔ ان حالات میں میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ گالم گلوچ کرنے والے اکثر اوقات مختلف پروگراموں میں نظر آتے ہیں لیکن کوئی اینکر ان کے رویے پر ان کو نہیں ٹوکتا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ادارہ، جس کا بنیادی کام حقائق اور قابلِ اعتماد معلومات عوام تک پہنچانا ہے، وہ کیوں اس کے برعکس کردار ادا کرنے میں مصروف عمل ہے۔ جہاں بعض ٹی وی اینکرز غلط ریمارکس اور من گھڑت اعداد و شمار کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے سے باز آتے نظر نہیں آ رہے۔ یہ ایک بدقسمتی کی بات ہے کہ میڈیا کرپٹ سیاسی قائدین کے پیغامات کو فروغ دینے کے لئے آلہ کار بنا ہوا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں